بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

انڈونیشیا کا اپنا دارالحکومت بورنیو جزیرے منتقل کرنے کا فیصلہ

datetime 27  اگست‬‮  2019 |

جکارتا(آن لائن)انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کا دارالحکومت جنگلوں سے گھرے مشرقی کنارے پر واقع بورنیو جزیرے منتقل کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق پیش کردہ مقام علاقائی شہروں بالکپاپان اور ساماریندا کے نزدیک ہے جہاں قدرتی آفات کا خدشہ کم ہے اور حکومت کے پاس وہاں پہلے ہی 1 لاکھ ہزار ہزار ہیکٹ (4 لاکھ 45 ہزار ایکڑ) زمین کی ملکیت موجود ہے۔صدر جوکو ویدودو نے

ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ‘یہ جگہ بہترین ہے، یہ انڈونیشیا کے وسط میں ہے اور شہری علاقوں سے بھی قریب تر ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘گورننس، کاروبار، مالیات، تجارت اور سروسز کا مرکز ہونے کی وجہ سے جکارتا پر بوجھ میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے’۔جکارتا میں مقیم پولیٹیکل رسک اینالسٹ کیون او رورکے کا کہنا تھا کہ ‘جاوا جزیرے سے دارالحکومت تبدیل کرنے سے اتحاد مزید مستحکم ہوگا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جکارتا میگا سٹی رہے گا اور چند دہائیوں تک مالیات اور تجارت کا مرکز بنا رہے گا تاہم اسے ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین خدشات لاحق ہیں’۔جوکو ویدودو کا کہنا تھا کہ پیش کردہ اقدام پر بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔حکام کا کہنا تھا کہ بورنیو جزیرے پر تعمیرات کا آغاز آئندہ سال سے ہوگا جس میں 15 لاکھ سرکاری افسران کی منتقلی 2024 تک 466 کھرب روپیہ (33 ارب ڈالر) لاگت سے کی جائے گی۔ملیشیا اور برونائی سے ملنے والے بورنیو جزیرے کا حصہ جسے کلیمنتان کے نام سے جان جاتا ہے، میں بڑے پیمانے پر کان کنی کی جاتی ہے جبکہ یہاں گھنے جنگلات ہیں اور یہ دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں اورانگوتان بستے ہیں۔ماہر ماحولیات نے دارالحکومت کی تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا کہ اس سے نایاب اورانگوتان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔گرین پیس انڈونیشا کیمپینر جیسمین پیوتری کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ نئے دارالحکومت کو محفوظ مقامات پر قائم نہ کیا جائے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دارالحکومت کی تبدیلی سے جکارتا میں ٹریفک جام اور شہر کے تیزی سے پھیلنے کے مسائل حل نہیں ہوں گے’۔واضح رہے کہ انڈونیشیا دارالحکومت منتقل کرنے والا جنوبی مشرقی ایشیا کا پہلا ملک نہیں۔اس سے قبل میانمار اور ملیشیا بھی اپنے مرکز کو منتقل کرچکے ہیں جبکہ برازیل، پاکستان اور نائیجیریز بھی اپنے دارالحکومت کو منتقل کرچکے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…