عالمی منظرنامے میں بڑی تبدیلی، جی سیون اجلاس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ کی ڈرامائی انٹری، ٹرمپ حیران ،جانتے ہیں جواد ظریف کو شرکت کی دعوت کس نے دی؟

  پیر‬‮ 26 اگست‬‮ 2019  |  11:41

بیارٹز،فرانس(سی پی پی)ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک ایسے وقت میں فرانس کا ایک مختصر اور غیر اعلانیہ دورہ دورہ کیا ہے جب وہاں جی سیون سربراہی اجلاس جاری ہے۔دیگر عالمی رہنمائوں کے علاوہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک ہیں ۔ ایسے میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی ضمنی بات چیت میں شرکت کی۔امریکہ اور ایران کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں اور اطلاعات کے مطابق امریکی وفد جواد ظریف کے اس غیر اعلانیہ دورے پر حیران تھا۔ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے کی جانے والی


ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ اور فرانس کے صدر سے ’’تعمیری‘‘بات چیت کی ہے۔اپنی ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ آگے کی راہ مشکل ہے لیکن کوشش کی جا سکتی ہے، انھوں نے جرمن اور برطانوی عہدیداروں کو ایک مشترکہ بریفنگ دی ہے۔جواد ظریف نے سربراہی اجلاس کے موقع پر جمعہ کے روز پیرس میں صدر ایمانوئل میکخواں سے بھی ملاقات کی تھی۔ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب گذشتہ برس امریکہ نے یک طرفہ طور پر سنہ 2015 میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔پانچ دوسرے ممالک بشمول فرانس اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی نئی معاشی پابندیوں کے بعد ایران نے جوابی اقدام کے طور پر جوہری سرگرمیاں پھر سے شروع کر دی تھیں۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں اپنے تئیں کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے کو مکمل ختم ہونے سے بچانے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ گذشتہ مہینوں میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے معاملے پر ایران کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔گذشتہ ماہ امریکہ نے ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ امریکی عہدیداروں نے ان پر ایرانی لیڈر کے 'لاپروائی پر مبنی ایجنڈے' کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔ جواد ظریف نے سربراہی اجلاس کے آغاز پر جمعہ کے روز پیرس میں صدر ایمانوئل میکرون سے بھی ملاقات کی تھی۔اتوار کو کیے گئے جواد ظریف کے دورے کی متضاد تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ فرانسیسی عہدیداروں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی وفد کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ایرانی وزیرِ خارجہ کو مدعو کیا گیا تھا لیکن وائٹ ہائوس کے عہدیداروں نے اس دورے پر اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ فرانسیسی اور امریکی صدور کی جانب سے اس حوالے سے بھی متضاد بیانات سامنے آئے ہیں کہ آیا جی سیون ممالک تہران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی متفقہ حکمت عملی پر متفق ہوئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنا لائحہ عمل خود اختیار کریں گے۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں کسی کو بات چیت کرنے سے روک نہیں سکتا۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔'جی سیون ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے سربراہان نے گذشتہ ہفتے کے اختتامی دنوں میں 45ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہے۔جوہری معاہدے اور بریگزٹ سمیت متعدد موضوعات ان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

موضوعات:

loading...