منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ اور چین میں ٹھن گئی، تجارتی جنگ عروج پر،چین کا امریکی مصنوعات پر 75 ارب ڈالر کا نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان،ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو واپسی کا حکم دے دیا

datetime 24  اگست‬‮  2019 |

بیجنگ(این این آئی) چین نے ٹیرف کے حوالے سے امریکی صڈر ٹرمپ کے فیصلوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی مصنوعات کی درآمد پر 75 ارب ڈالر کا نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق گزشتہ روز ایک بیان میں چین کے اسٹیٹ کونسل ٹیرف آفس نے بتایاکہ امریکا سے آنے والی 5 ہزار 78 اشیا پر یکم ستمبر اور 15 دسمبر سے 5 سے 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔

چین کی جانب سے امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف اور آٹوپارٹس پر 5فیصد ٹیرف کا اطلاق 15 دسمبر سے ہوگا۔چین کے اسٹیٹ کونسل ٹیرف کمیشن آفس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ٹیرف میں اضافے سے امریکا اور چین کے درمیان معیشت اور تجارت میں پائے جانے والے اختلاف میں اضافہ ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے سربراہان کی ارجنٹینا اور اوساکا میں ہونے والی اتفاق رائے کی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے ٹیرف کا نفاذ امریکا کے یکطرفہ اور تجارتی تحفظ کے دباو پر مجبوری کے تحت اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے 3 اگست کو چینی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تجارتی جنگ میں چین کی مزید 300 ارب ڈالر کی مصنوعات پر 10 فیصد نیا ٹیرف نافذ ہوگا۔دریں اثناء امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی جانب سے مصنوعات کی درآمد پر 75 ارب ڈالر کا نیا ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر بیجنگ سے واپسی کا حکم دے دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چین کے ٹیرف کے حوالے سے تازہ فیصلے پر جواب دینے سے قبل اپنی تجارتی ٹیم سے ملاقات کی۔ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے ملک نے کئی برسوں سے چین کے ساتھ بے وقوفی میں کھربوں ڈالرز ضائع کردیے، انہوں نے ہماری جائیداد کو ایک سال میں سیکڑوں اربوں ڈالر کی قیمت میں چوری کیا اور وہ اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چین کی ضرورت نہیں ہے اور ان کے بغیر ہمارے لیے اچھا ہوگا، چین نے دہائیوں سے ہر سال بعد امریکا سے بڑی تعداد میں پیسے بنائے اور چوری کیے، جس کو روک دیا جائے گا۔امریکی کمپنیوں کو چین سے واپسی کا حکم دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری عظیم امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر چین کا متبادل تلاش کریں، جبکہ اپنی کمپنیاں گھر واپس آکر امریکا میں مصنوعات تیار کریں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں چین کے ٹیرف پر جواب دوں گا، یہ امریکا کے لیے بھی عظیم موقع ہے، میں فیڈ ایکس، ایمازون، یو پی ایس اور پوسٹ آفس سمیت تمام ذیلی کمپنیوں کو بھی حکم دیتا ہوں کہ وہ تلاش شروع کریں اور چین سے فینٹنیل کی وصولی سے انکار کریں۔ان کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ اس کو روکنا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا، ہماری معیشت گزشتہ ڈیڑھ سے دو برس کے دوران منافع کے باعث چین کے مقابلے میں وسیع ہے اور ہم اس رفتار کو اسی طرح جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…