منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سابق امریکی فوجیوں کی اکثریت افغان جنگ کی مخالف ،کتنے فیصد سابق امریکی فوجی اور امریکی عوام حامی نہیں ،سروے کے حیران کن نتائج

datetime 11  جولائی  2019 |

واشنگٹن (آن لائن)امریکہ میں سابق فوجیوں اور عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں جنگ نہیں شروع کرنی چاہیے تھی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیو ریسرچ سنٹر کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 58 فیصد سابق امریکی فوجی

اور 59 فیصد امریکی عوام افغانستان میں جنگ کے حامی نہیں ہیں اور 10 میں سے صرف چار افراد ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنا چاہیے تھا۔امریکہ کی عراق جنگ اور شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فوجی مداخلت کو بھی سابق فوجیوں اور عوام نے رد کیا ہے۔ سروے کے مطابق 64 فیصد سابق فوجیوں اور 55 فیصد لوگوں نے امریکہ کی اس کارروائی کی مخالفت کی ہے۔58 فیصد سابق امریکی فوجی اور 59 فیصد امریکی عوام افغانستان میں جنگ کے حامی نہیں ہیں ۔پیو ریسرچ سنٹر کے اس سروے میں اہم بات یہ ہے کہ ’امریکہ کی افغانستان اور عراق جنگ کی مخالفت کرنے والے سابق فوجیوں میں ان کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے ان جنگوں میں حصہ لیا اور ان فوجیوں کی تعداد کم ہے جنہوں نے ان جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔اس سروے میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہے جو کہ سابق فوجیوں کے لیے 3.9 فیصد رکھی گئی ہے اور عام لوگوں کے لیے غلطی کا تناسب 3.1 فیصد ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں عام صدارتی انتخابات سے پہلے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن ہو سکے۔امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ایک دور حال ہی میں دوحہ میں ہوا جو چھ روز تک جاری رہا اور اس دوران دو روز کے لیے طالبان اور 70 افغان مندوبین کے درمیان بھی مذاکرات ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…