منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

دوحا میں امریکی فوجی اڈے کی توسیع میں قطری پیسہ استعمال کیا گیا، ٹرمپ

datetime 10  جولائی  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں قائم کردہ العدید فوجی اڈے کی توسیع میں امریکا نے کوئی رقم خرچ نہیں کی بلکہ توسیع کا سارا کام قطری پیسے سے کیا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی صدر نے ان خیالات کا اظہار

گذشتہ روز واشنگٹن میں امیرقطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ انہوں نے العدید فوجی اڈے کی توسیع میں رقم فراہم کرنے پرامیر قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ امریکی صدرنے کہا کہ وہ قطرمیں امریکی فوج کو آپریشنل کارروائیوں کے لیے میزبانی فراہم کرنے پر دوحہ کے شکر گذار ہیں۔ایک دوسرے سیاق میں ٹرمپ نے امیر قطر سے کہا کہ آپ ہمارے ملک میں بھاری رقوم کی سرمایہ کاری کرتے اور اسلحہ خریدتے ہیں۔ ہم اس کے بدلے میں آپ کے ساتھ بوئینگ طیاروں کی ڈیل اور دیگر بڑے سودے کریںگے۔امیرقطراور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے موقع پرامریکی وزیرخزانہ سٹیون منوچن بھی موجود تھے۔اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ دوحا میں امریکی فوجی اڈے کی توسیع پر8 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ کام ہوگیا اور اس پر ہمارا نہیں بلکہ آپ کا پیسہ استعمال ہوا۔خیال رہے کہ قطر میں قائم العدید فوجی اڈہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا اڈہ ہے اس فوجی اڈے کو خطے میں ہونے والے کئی فوجی آپریشنز کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔اس فوجی فضائی اڈے پرامریکی سینڑل کمانڈ ہیڈ کواٹر، امریکی ایئرفورس سینٹرل کمانڈ ہیڈ کواٹر، برطانوی ایئرفورس کا اسکواڈرن نمبر83 اور امریکی فوج کے ایئربرون ونگ نمبر379 کا ہیڈ کواٹر واقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…