غزنی(این این آئی) جنوب مشرقی افغانستان کے شہرغزنی میں خودکش کاربم دھماکہ میں افغان انٹیلی جنس کے (8)افسروں و اہلکاروں اور(12) عام شہریوں سمیت (20) افراد ہلاک اور (35) بچوں سمیت (140) دیگر زخمی ہوگئے۔طالبان نے دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ابتدائی اطلاعات اور افغانستان کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 8 بجے بارود سے بھری کار نے شہر کے وسط میں واقع افغان انٹیلی جنس کے دفتر نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف ڈیفنس (NDS) کی عمارت میں داخل ہوکر خودکش بم کا زورداردھماکہ کیا جس کی زدمیں آکر افغان انٹیلی جنس کے(8) افسرواہلکار اور(12) عام شہری موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ہلاک شدگان میں ایک بچہ اور کئی خواتین بھی شامل ہیں۔ صوبائی ترجمان عارف نوری نے واقعہ میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ میں (50) دیگر زخمی ہوگئے تاہم پبلک ہیلتھ کے صوبائی سربراہ ظاہرشاہ نیک مال کے مطابق ہسپتال میں (140)زخمی افراد لائے گئے ہیں جن میں انٹیلی جنس کے (10)اہلکاراور سکول کے(35) بچے شامل ہیں۔ظاہرشاہ نے ہلاکتوں میں مزیداضافہ کا خدشہ بھی ظاہرکیا ہے۔ادھر افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرکے کہا ہے کہ دھماکہ میں افغان انٹیلی جنس کے افسروں اور اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جہاں دھماکہ ہوا ہے وہاں قریب ہی سکول بھی واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ دھماکہ میں سکول کے بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔غزنی شہر میں دودنوں کے اندر دوسرا دھماکہ ہے۔ جمعہ کے روز بھی شہر کے وسطی علاقے خاک غریباں کی مسجد محمدیہ میں بم دھماکہ ہواتھا جس میں دو شہری جاں بحق اور 20 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔



















































