بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ کا لڑاکا جیٹ نہ دینا ڈکیتی کے مترادف ہے‘ترک صدر اردگان امریکہ پر برس پڑے،جوابی اقدامات کا اعلان

datetime 5  جولائی  2019 |

استنبول(این این آئی)امریکا ا ور ترکی کے درمیان روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر تندوتیز بیانات جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ترک صدر رجب طیب اردگان  نے کہا ہے کہ اگر امریکا طے شدہ سودے کے مطابق ایف 35 لڑاکا طیارے ترکی کو مہیا نہیں کرتا ہے تو یہ ایک ڈکیتی ہوگی۔صدر ایردوآن نے چین کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کا کوئی گاہک ہے اور وہ آپ کو مشینی کام کی طرح رقم ادا کردیتا ہے تو آپ اس کو اشیاء  دینے سے کیسے انکار کرسکتے ہیں۔

اگر اس گاہک کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے تو اس کو ڈکیتی ہی کا نام دیا جاسکتا ہے“۔انھوں نے بتایا کہ ترکی نے اب تک ایف 35 لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے امریکا کو ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں، ان میں سے چار لڑاکا طیارے ترکی کے حوالے بھی کیے جاچکے ہیں۔ترک ہواباز یہ طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے امریکا جانے والے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ  ہم نے 116 ایف 35 لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے سمجھوتا کیا تھا۔ہم صرف ایک مارکیٹ ہی نہیں بلکہ اس طیارے کے مشترکہ تیار کنندہ بھی ہیں۔ ہم ترکی میں اس کے بعض آلات تیار کرتے ہیں۔ترک صدر نے جاپان کے شہر اوساکا میں گذشتہ ہفتے منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔اس کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ جب روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی ترکی میں آمد شروع ہوجائے گی تو اس کے بعد وہ امریکا کی ضرررساں پابندیوں سے محفوظ رہے گا۔اگر امریکا ترکی کا ایف 35 پروگرام سے نام ہٹا دیتا ہے اور اس پر پابندیاں عاید کردیتا ہے تو یہ حالیہ تاریخ میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں یہ پہلی بڑی دراڑ ہوگی۔صدر ٹرمپ خود صدر ایردوآن کے ساتھ اچھے مفاہمانہ تعلقات کا ا ظہار کرچکے ہیں۔ وہ ترکی کو پابندیوں سے مستثنا قرار دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب وہ پابندیوں کو موخر کرانا چاہتے ہیں۔ اس سے ترکی تو خوش ہوگا لیکن کانگریس میں صدر ٹرمپ کو اپنے بعض اتحادیوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

امریکا اوراس کے اتحادی ماضی میں متعدد مرتبہ اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے ہاں ایس-400 روسی نظام کو نصب نہ کرے کیونکہ اس ٹیکنالوجی سے روس کو لڑاکا جیٹ کی اڑان کے بارے میں مکمل پتا چل جائے گا۔اس وقت دشمن کے راڈار اور گرمی کے سنسر ان طیاروں کا سراغ نہیں لگا سکتے۔لیکن ترک صدر امریکا اورا س کے اتحادیوں کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے تیار کردہ لڑاکا جیٹ ایف 35 کی وجہ سے نیٹو کی فورسز کو فضائی محاذ پر کئی لحاظ سے تکنیکی برتری حاصل ہے۔یہ دشمن کے مواصلاتی نیٹ ورکس اور فضائی سنگنلز کو تہس نہس کرسکتے ہیں۔ترکی امریکا سے معاہدے کے تحت اس وقت ایف -35 کے ایندھن کے حصے، لینڈنگ گئیر اور کاک پٹ کے حصے تیار کررہا ہے۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…