بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

datetime 24  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی )افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اْن کا کہنا تھا کہ رہائی کا فیصلہ ناقابل فہم اور ضمیر کی آواز کے خلاف ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ لنڈھ بدستور امریکہ کیلئے ایک خطرہ ہے اور وہ اب بھی اس لڑائی میں یقین رکھتا ہے جس میں اس نے ایک عظیم امریکی اور سی آئی اے کے عظیم افسر کو ہلاک کر دیا تھا۔ مائیک پومیو نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی پریشان کن اور غلط ہے۔جان واکر لنڈھ کو افغانستان میں غیر قانونی طور پر طالبان کو مددفراہم کرنے پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے 17 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔نومبر 2001 میں افغانستان میں گرفتاری کے وقت لنڈھ کی عمر 20 سال تھی۔ لنڈھ نے نوعمری میں اسلام قبول کر لیا تھا اور اْس نے 2000 میں یمن جا کر عربی زبان سیکھی تھی جس کے بعد وہ افغانستان جا کر طالبان میں بھرتی ہو گیا۔لنڈھ کو افغانستان میں گرفتار کرنے کے بعد ایک قید خانے میں رکھا گیا جہاں سی آئی اے کے تفتیشی افسر مائیک سپین اس سے باز پرس کرتے رہے جنہیں قید خانے میں ہونے والی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد لنڈھ کو واپس امریکہ لایا گیا جہاں اْس نے استغاثہ کے ساتھ اعتراف جرم کا سمجھوتہ کر لیا اور تفتیش میں مدد دینے لگا۔اس وقت منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں اسے افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دکھایا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔لنڈھ کو رہا کرتے وقت امریکہ کے فیڈرل جج نے اس پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کے کمپیوٹر اور دیگر انٹرنیٹ ذرائع میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی نگرانی کی جائے گی، اسے دماغی صحت کے حوالے سے کونسلنگ کے عمل سے گزرنا ہو گا اور انتہاپسندی پر مبنی مواد رکھنے یا دیکھنے پر پابندی ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…