منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں پہلی بار تارکین وطن کو مستقل رہائش کی اجازت مل گئی،جائیدادیں بھی خرید سکیں گے،تفصیلات جاری

datetime 16  مئی‬‮  2019 |

ریاض(آن لائن)سعودی عرب کی حکومت نے پہلی بار غیر ملکیوں سے متعلق ایک ایسی نئی اسکیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے پر تارکین وطن کو خلیج کی اس قدامت پسند عرب بادشاہت میں مستقل رہائش کا حق دیا جا سکے گا۔اب تک سعودی عرب نے اپنی سرکاری پالیسیوں کے تحت وہاں رہنے والے تارکین وطن کو مستقل رہائش کا حق دینے میں بہت ہی ہچکچاہٹ سے کام لیا ہے اور اس سلسلے میں آج تک کوئی باقاعدہ قوانین بھی متعارف نہیں کرائے گئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اس عرب بادشاہت میں رہنے والے تمام غیر ملکی کارکن ہمیشہ انہیں سپانسر کرنے والے مقامی شہریوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو عرف عام میں کفیل کہلاتے ہیں اور اپنے ’زیر کفالت‘ تارکین وطن کے جملہ قانونی معاملات کے ذمے دار بھی ہوتے ہیں۔اب لیکن ریاض حکومت نے ایک ایسی پالیسی کی منطوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں تارکین وطن کو اس ملک میں مستقل رہائش کا حق مل سکے گا، وہ جائیدادیں بھی خرید سکیں گے اور کسی مقامی سپانسر کے بغیر اس ملک میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مستقل بنیادوں پر رہائش بھی اختیار کر سکیں گے۔اس فیصلے کی سعودی کابینہ کی طرف سے منظوری  دے دی۔ اس کا ایک مقصد سعودی عرب کو طویل المدتی بنیادوں پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنانا بھی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ریاض حکومت کی کوشش ہے کہ وہ تیل کی برآمد پر اپنا بہت زیادہ اقتصادی اور مالیاتی انحصار کم کرتے ہوئے اندرون ملک سرمایہ کاری اور سرمائے کی گردش میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کر سکے۔اس نئے رہائشی اجازت نامے کو ’زیادہ استحقاق والے اقامے‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اپنے اپنے شعبوں کے بہت ماہر غیر ملکی کارکنوں اور کیپیٹل فنڈز کے مالکان یا حصے داران کو جاری کیا جا سکے گا اور اس کی سالانہ بنیادوں پر آسانی سے تجدید کروائی جا سکے گی۔ اس نئی سرکاری پالیسی کی سعودی حکام نے اس سے زیادہ تفصیلات ابھی جاری نہیں کیں۔

سن 2010 سے 2015 تک کے پانچ برسوں کے دوران پاکستان کو سب سے زیادہ ترقیاتی امداد امریکا نے دی۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے ان پانچ برسوں میں امریکا نے پاکستان کو 3935 ملین ڈالر فراہم کیے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے سعودی عرب اب تک کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن جائے گا اور یوں نہ صرف ملکی معیشت اور نجی شعبے کو ترقی ملے گی بلکہ ساتھ ہی مقامی سعودی باشندوں کے لیے روزگار کے اچھے مواقع میں بھی واضح اضافہ ہو سکے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…