منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

دنیا کی وہ عمارت جہاں کے مکین ایک وقت میں  سحر وافطار نہیں کرسکیں گے کیونکہ،مفتی اعلیٰ نے بتادیا

datetime 4  مئی‬‮  2019 |

دبئی(آئی این پی) دنیا کے مختلف ممالک اور شہروں کے مکین اپنے اپنے مقامی وقت کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سحری اور افطار کرتے ہیں لیکن دبئی میں واقع برج الخلیفہ ایک ایسی عمارت ہے جس کے مکین ایک ہی وقت میں نہ تو سحری کرسکتے ہیں، نہ افطار، اور نہ ہی ان کے روزے کا دورانیہ ایک جیسا ہو گا ۔

کیونکہ اس اونچی عمارت کی مختلف منزلوں میں وقت تبدیل ہوجاتا ہے۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق دبئی کے مفتی اعلیٰ ڈاکٹر احمد عبدالعزیز الحداد نے برج خلیفہ کے مکینوں سے متعلق بتایا ہے کہ وہ بیک وقت افطار نہیں کرسکیں گے اور ان کے روزے کا دورانیہ بھی مختلف ہوگا۔دبئی میں واقع عالمگیر شہرت یافتہ عمارت برج خلیفہ 160 منزلہ ہے۔ اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 80 سے 150 ویں منزل تک کے مکین نماز مغرب کے دو منٹ بعد افطار کرسکیں گے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ دبئی کی مساجد میں عشا کی اذان کے دو منٹ بعد نماز عشا ادا کرسکیں گے اور اذان فجر کے دومنٹ بعد تک ہی سحری بھی کرنے کے مجاز ہوں گے۔150 ویں منزل سے لے کر 160 ویں منز ل تک کے مکین اذان کے تین منٹ بعد روزہ افطار کریں گے جب کہ فجر کی اذان کے تین منٹ بعد تک سحری بھی کرسکیں گے۔برج خلیفہ کی 80 ویں منزل تک کے مکین دبئی کے دیگررہائشیوں کی طرح مغرب کی اذان ہوتے ہی افطار اورفجر کی اذان ہوتے ہی سحری ختم کرنے کے پابند ہوں گے۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب میں امسال روزہ اوسطاً 14 گھنٹے اور 40 منٹ کا ہوگا۔ فلکیاتی امور کے ماہر عبدالعزیز الحصینی کے مطابق بعض شہروں میں یہ دورانیہ کم یا زیادہ ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان کے آغاز اور اختتام پر بھی روزے کا دورانیہ تبدیل ہوگا۔الیوم اخبار سے بات چیت میں عبدالعزیز الحصینی نے پیش گوئی کی کہ رمضان المبارک کے دوران ریاض اور قصیم میں سعودی عرب کے دیگر علاقوں کی نسبت گرمی زیادہ ہوگی۔ماہرین فلکیات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں روزہ 15 گھنٹے 12منٹ اور اردن کے دارالحکومت عمان میں 15 گھنٹے 54 منٹ کا ہو گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…