منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

مودی صرف الیکشن میں،پاکستان ہر روز سر چڑھ کر بولتا ہے،تیج بہادر نے کھری کھری سنا دیں

datetime 1  مئی‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)عام انتخابات میں بھارتی وزیراعظم کو چیلنج کرنے والے بھارتی سیکورٹی فورس کے سابق اہلکار تیج بہادر نے کہاہے کہ پاکستان ہر روز سر چڑھ کر بولتا ہے اور مودی صرف الیکشن کے وقت بولتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی اپنی انتخابی مہم میں دعوی کررہے ہیں۔

ان کے دور میں ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اگر ایسا ہے تو پلوامہ کا حملہ کیسے ہوا؟ تیج بہادر نے کہا کہ اس حملے کی تحقیقات کیوں نہیں کروائی گئی،انہوں نے کہاکہ وہ مودی سے پلوامہ حملے پر سوال کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات اتنے ہی اچھے ہیں تو اتنے سارے جوان میری انتخابی مہم کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔ تیج بہادر کا کہنا تھاکہ997جوانوں نے خود کشی کی ہے لیکن یہ بتاتے نہیں، ہمارے پاس اعداد و شمار ہیں،775جوان ہلاک ہوئے ،ویڈیو شیئر کرنے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ انھوں نے بھروسے کے ساتھ یہ ویڈیو پوسٹ کی تھی کیونکہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو لگتا تھا کہ انہیں ایک اچھا وزیراعظم مِلا ہے جو بار بار عوام سے اپیل کرتا ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں اور میری مدد کریں۔تیج بہادرنے کہاکہ نوٹ بندی کے دوران گوا میں ایک ریلی میں انھوں نے چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا تھا کہ نہ کھائوں گا اور نہ کھانے دوں گا ۔ ہم نے سوچا ہمارا وزیراعظم اتنا کام کر رہا ہے تو ہمیں بھی اپنی بات رکھنی چاہیے۔ ہم نے اس بھروسے ویڈیو پوسٹ کی کہ وزیراعظم ان کی مدد کریں گے۔ لیکن ملا کیا مجھے برخاست کر دیا گیا۔انھوں نے کہاکہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ویڈیو شیئر کر کے میں نے فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی لیکن میرا جو اپنا فنڈ ہے وہ تو مجھے دے دو۔

اکیس سال جو میں نے فوج میں نوکری کی ہے اس کی پینشن تو دو اور اگر وہ بھی نہیں دیتے تو بدعنوان اہلکاروں کو تو سزا دو لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے، جو بدعنوان ہیں انہیں تحفظ دیا جا رہا ہے اور جو آواز اٹھا رہا ہے اسے ختم کر دو، یہ ان کی پالیسی ہے۔تیج بہادر کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے تمام پارٹیوں کو خط لکھا تھا جس کے بعد سماج وادی پارٹی کی جانب سے انہیں فون آیا اور انہیں امیدار بنا دیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…