پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

چین کے ساتھ تجارتی معاہدے،اربوں ڈالرز جرمانے سے بچنے کے لئے ملائشیاء مجبور،گھٹنے ٹیک دیئے،وزیراعظم مہاتیر محمد کا بڑا اعلان

datetime 16  اپریل‬‮  2019 |

کوالالمپور (این این آئی )ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے متنازع اسکیم پر معاہدہ ہونے کے بعد کہا ہے کہ چینی ریلوے کی بحالی نہ کی جاتی تو 5 ارب ڈالر کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تفصیلات بتاتے ہوئے ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس دوبارہ مذاکرات کرنے یا منصوبہ معطل کرنے کی وجہ سے 5.3 ارب ڈالر ادا کرنے

کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں ہم نے مذاکرات کا راستہ اپنایا اور معاہدے کو برابری کی بنیاد پر کیا تاکہ ملیشیا کی عوام کو ترجیح دی جاسکے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اسکیم میں شامل چینی کمیونکیشن کنسٹرکشن کمپنی ملیشیا کے ادارے کے ساتھ مل کر کام کرے گی جس سے ملیشیا پر بوجھ کم ہوگا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ملیشیا اور چین گزشتہ دور حکومت کے منصوبے کو ان کے اقتدار کھونے کے بعد دوبارہ بحال کرتے ہوئے اسے 30 فیصد کم لاگت میں آگے بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔یہ بیجنگ کی جانب سے سرمایہ کاری کیے گئے انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سے ایک ہے جسے حکومت کے بدلنے کے بعد روکا گیا تھا کیونکہ نئے حکمراں قومی قرضے کو کم کرنا کرپشن کے ذریعے کیے گئے معاہدے کو روکنا چاہتے تھے۔ملیشیا اور چین نے اس منصوبے کا دوبارہ آغاز 10.7 ارب ڈالر کی کم لاگت میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے ملیشیا کے سابق حکمراں نجیب رزاق کے قریبی اتحادی بیجنگ سے ملیشیا کے تعلقات میں بہتری ہوگی۔شمالی ملیشیا کے مشرقی ساحلی پٹی پر 640 کلومیٹر طویل ریل لنک تھائی لینڈ سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر کے منصوبے کا اہم منصوبہ بھی جانا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…