جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

طالبان کاافغانستان بھر میں آپریشن فتح شروع کرنے کا اعلان، افغان حکومت کیلئے نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

کابل(آن لائن)امریکا اور افغان سیاستدانوں کی جانب سے طالبان سے امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود طالبان نے موسم بہار میں جارحانہ کارروائیوں کا اعلان کردیا۔ طالبان نے ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘قبضے کے خاتمے’ اور ‘ہماری مسلمان سرزمین سے حملے اور بدعنوانی کا صفایا’ کرنے کے مقصد کے ساتھ افغانستان بھر میں آپریشن فتح کیا جائے گا۔سالانہ موسم بہار کی جارحیت روایتی طور پر نام نہاد لڑائی کے سیزن کا آغاز ہوتا ہے،

اگرچہ یہ اعلان بڑی علامت مانا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ موسم سرما میں طالبان افغان اور امریکی فورسز سے لڑائی جاری رکھے ہوئے تھے۔طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ ‘ہماری جہادی ذمہ داری ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے، یہاں تک کہ ہمارے ملک کے بڑے حصوں کو دشمن سے آزاد کرالیا گیا لیکن اب بھی غیر ملکی قابض فورسز ہمارے اسلامی ملک میں عسکری اور سیاسی اثر و رسوخ کی مشق جاری رکھی ہوئی ہیں’۔دوسری جانب افغان وزارت دفاع کے ترجمان قیص مینگل کا کہنا تھا کہ طالبان کی موسم بہار کی جارحیت ‘محض پروپیگینڈا’ ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘طالبان اپنے مذموم مقاصد کے حصول تک نہیں پہنچ سکے ہیں اور گزشتہ برسوں کی طرح ان کے آپریشنز میں انہیں شکست ہوگی’2018 میں سخت خون ریزی کے بعد حالیہ ہفتوں کابل میں پرتشدد واقعات میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی لیکن پیر کو طالبان کی جانب سے شہر کے شمال میں ایئر بیس پر حملے میں 3 امریکی فوجی کو ہلاک کردیا گیا۔واضح رہے کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے حال ہی میں اپنے موسم بہار کے آپریشن خالد کا اعلان کیا گیا اور طالبان نے اسے جواز کے طور پر استعمال کیا اور نئے آپریشن کا اعلان کردیا۔طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ‘دشمن طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کا حصول اب بھی چاہتا ہے’۔یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ امریکا عسکریت پسندوں کے خلاف جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ افغان سیاست دان بھی ماسکو میں طالبان سے علیحدہ ملاقات کر چکے ہیں جبکہ کابل حکومت کے حکام اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور رواں ماہ میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہے۔واضح رہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے آغاز کے 18 سال بعد بھی امریکا کے تقریباً 14 ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کا بہت حصہ خاص کر دیہی علاقے ان کے قبضے میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…