پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کاافغانستان بھر میں آپریشن فتح شروع کرنے کا اعلان، افغان حکومت کیلئے نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

کابل(آن لائن)امریکا اور افغان سیاستدانوں کی جانب سے طالبان سے امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود طالبان نے موسم بہار میں جارحانہ کارروائیوں کا اعلان کردیا۔ طالبان نے ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘قبضے کے خاتمے’ اور ‘ہماری مسلمان سرزمین سے حملے اور بدعنوانی کا صفایا’ کرنے کے مقصد کے ساتھ افغانستان بھر میں آپریشن فتح کیا جائے گا۔سالانہ موسم بہار کی جارحیت روایتی طور پر نام نہاد لڑائی کے سیزن کا آغاز ہوتا ہے،

اگرچہ یہ اعلان بڑی علامت مانا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ موسم سرما میں طالبان افغان اور امریکی فورسز سے لڑائی جاری رکھے ہوئے تھے۔طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ ‘ہماری جہادی ذمہ داری ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے، یہاں تک کہ ہمارے ملک کے بڑے حصوں کو دشمن سے آزاد کرالیا گیا لیکن اب بھی غیر ملکی قابض فورسز ہمارے اسلامی ملک میں عسکری اور سیاسی اثر و رسوخ کی مشق جاری رکھی ہوئی ہیں’۔دوسری جانب افغان وزارت دفاع کے ترجمان قیص مینگل کا کہنا تھا کہ طالبان کی موسم بہار کی جارحیت ‘محض پروپیگینڈا’ ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘طالبان اپنے مذموم مقاصد کے حصول تک نہیں پہنچ سکے ہیں اور گزشتہ برسوں کی طرح ان کے آپریشنز میں انہیں شکست ہوگی’2018 میں سخت خون ریزی کے بعد حالیہ ہفتوں کابل میں پرتشدد واقعات میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی لیکن پیر کو طالبان کی جانب سے شہر کے شمال میں ایئر بیس پر حملے میں 3 امریکی فوجی کو ہلاک کردیا گیا۔واضح رہے کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے حال ہی میں اپنے موسم بہار کے آپریشن خالد کا اعلان کیا گیا اور طالبان نے اسے جواز کے طور پر استعمال کیا اور نئے آپریشن کا اعلان کردیا۔طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ‘دشمن طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کا حصول اب بھی چاہتا ہے’۔یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ امریکا عسکریت پسندوں کے خلاف جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ افغان سیاست دان بھی ماسکو میں طالبان سے علیحدہ ملاقات کر چکے ہیں جبکہ کابل حکومت کے حکام اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور رواں ماہ میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہے۔واضح رہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے آغاز کے 18 سال بعد بھی امریکا کے تقریباً 14 ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کا بہت حصہ خاص کر دیہی علاقے ان کے قبضے میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…