پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کا افغان نائب صدر عبدالرشید دوستم پرقاتلانہ حملہ، 4 محافظ مارےگئے ،6 افراد زخمی

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

کابل (اے این این ) افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم خود ساختہ جلاوطنی سے واپسی کے بعد دوسرے قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے جبکہ ان کا ایک محافظ جاں بحق ہوگیا۔عبدالرشید دوستم کی جماعت ‘جنبش ملی پارٹی’ کے ترجمان بشیر احمد تیانجی کا کہنا تھا کہ دوستم کے قافلے پر قاتلانہ حملہ صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف سے جوزجان صوبے جاتے ہوئے راستے میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ عبدالرشید دوستم حملے سے باخبر تھے، جبکہ اس حملے میں دو محافظ زخمی بھی ہوئے ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جو دوستم کی 8 ماہ قبل ترکی سے وطن واپسی کے بعد دوسرا حملہ ہے۔خیال رہے کہ عبدالرشید دوستم پر پہلا قاتلانہ حملہ کابل ایئرپورٹ میں ہوا تھا جہاں وہ طویل خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے افغانستان پہنچے تھے تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ حملے میں 4 محافظوں کو مارا گیا اور 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ عبدالرشید دوستم پر گزشتہ قاتلانہ حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم ‘داعش’ نے قبول کی تھی، دوستم پر افغانستان میں اپنے سیاسی مخالفین پر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرنے کا الزام ہے۔عبدالرشید دوستم جلاوطنی کے دوران ترکی میں تقریبا ایک برس تک مقیم رہے جبکہ امریکا سمیت افغانستان کو امداد دینے والی مغربی طاقتوں کی جانب سے ان پر شدید دباو تھا۔جنبش پارٹی اپنے قائد کی واپسی کے بعد افغانستان کے سیاسی عمل میں سرگرم ہے جس کو افغانستان کے ہزارہ قبیلے کے اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور دوستم خود ملک کی بڑی سیاسی شخصیت تصور ہوتے ہیں۔

عبدالرشید دوستم افغانستان کے صدارتی انتخاب میں افغان چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی الیکشن ٹیم کا حصہ ہیں جو 28 ستمبر کو شیڈول انتخاب کے لیے میدان میں موجود کئی امیدواروں میں شامل ہیں۔افغانستان کے کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں 22 جولائی 2018 کو دھماکے میں کم ازکم 14 افراد جاں بحق اور 60 افراد زخمی ہوگئے تھے جہاں نائب صدر عبدالرشید دوستم کے استقبال کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے حملے کو خودکش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خودکش حملہ آور پیدل تھا جبکہ متاثرین میں عام شہریوں کے علاوہ بچے اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…