اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

عوامی دبائو اوربھارتی فورسز کے حوصلے پست ہونے پر مودی کی پریشانی عروج پر، ہاتھ جوڑ کرناقدین سے کیا منتیں ترلے کرنے لگے؟

datetime 28  فروری‬‮  2019 |

نئی دلی(سی پی پی)بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنے روایتی انداز میں ناقدوں کو ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ سب سے ضروری چیز سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہونے نہیں دینا ہے۔کچھ ہی دنوں قبل بڑی بڑی بڑھکیں مارنے والے وزیراعظم نریندرا مودی کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے، اپوزیشن الگ آڑے ہاتھوں لے رہی ہے تو بھارتی جنتا بڑے فوجی نقصان پر مودی سرکار سے سخت نالاں ہے۔

اِدھر سیکیورٹی فورسز کے حوصلے بھی پست ہیں۔پاک فضائیہ کے کرارے جواب پر 24 گھنٹے بعد چپ توڑتے ہوئے مودی منظر عام پر آہی گئے اور عوامی دبائو کو کم کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہونے کی دہائی دیتے ہوئے خود کو تنقید سے بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔وزیراعظم نریندرا مودی نے کہا کہ سرحد پار سے حملے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہیں، حملوں کا مقصد بھارت کی تعمیر و ترقی کو روکنا ہے، پوری قوم مذموم سازشوں کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی ہے۔فوجی محاذ پر عبرت ناک ناکامی پرعوامی حمایت کھودینے والے بھارتی وزیراعظم نے اتحاد اتحاد کی گردان کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع سب کی ذمہ داری ہے، بھارت متحد ہوکر لڑے گا اور یہ ہم سب کی فتح ہوگی۔اپوزیشن سے اکھڑے اکھڑے رہنے والے وزیراعظم مودی اب منت سماجت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں متحد ہو کر دشمن کو بتانا ہوگا کہ ہم کسی حملے سے خوف زدہ نہیں۔ تاہم اپوزیشن مودی کو موقع دینے پر رضامند دکھائی نہیں دیتی۔واضح رہے کہ پاک فضائیہ کی جانب سے 2 بھارتی طیاروں کو گرانے کے بعد وزیراعظم مودی شدید دبائوکا شکار ہیں اور اس دباو سے نکلنے کے لیے کبھی وہ سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہونے کی دہائی دیتے ہیں تو کبھی اپوزیشن کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…