اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات میں زیادہ تر پاکستانی نژاد ملوث ٗ برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کے افسوسناک انکشافات، بڑا اعلان کردیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2018 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کے پاکستانی نژاد سیکریٹری داخلہ ساجد جاوید نے بعض گرومنگ گینگز کی قومیت ظاہر کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات میں زیادہ تر پاکستانی نژاد ملوث ہیں ۔رواں سال کے آغاز پر سیکرٹری داخلہ کو ایک ٹویٹ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ذہنی بیمار ایشیئنز‘ کا ذکر کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ساجد جاوید نے کہاکہ جنسی زیادتی کرنے والوں کے قومیت کو نظرانداز کرنے سے شدت پسندوں کو بڑھاوا ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گروہوں کی شکل میں جنسی زیادتی کرنے والوں کی تحقیق کرنے والے حکام کوئی بھی چیز نہ چھوڑیں۔ساجد جاوید سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں یہ پریشانی تھی کہ ان کے اس قسم کے تبصرے سے نفرت کو ہوا ملے گی ٗ جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ اس بات سے مکمل آگاہ ہیں کہ سیاستدانوں کو اپنی زبان کے حوالے سے محتاط ہونا پڑتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب بات گروہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی آتی ہے تو یہ بالکل عیاں ہیں ٗاگر کسی کو پتہ کرنا ہے تو وہ حالیہ ہائی پروفائل کیسز کو دیکھیں جن میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔سیکرٹری داخلہ نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے گروہوں کی شخصیت اور صورتحال‘ کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومیت جیسے مسائل کو نظرانداز کرنے سے شدت پسندی کو ہوا مل سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر میں نے اسے نظرانداز کر دیا یا کسی کو نظر انداز کرتے دیکھا، تو یہ وہی چیز ہوگی جو کہ شدت پسند اس ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے انھیں بڑھاوا ملے گا جو کہ میں نہیں ہونے دوں گا۔ساجد جاوید سے اس سوال کے بارے میں پوچھا گیا جس کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے جنسی جرائم کے مرتکب افراد کی برطانوی شہریت ختم کر کے انھیں پاکستان بھیجا گیا، جہاں ایسے افراد کی فہرست نہیں رکھی جاتی۔انھوں نے کہاکہ ایسے فیصلوں کیلئے ’اونچا معیار رکھا‘ ہے، جو عام طور پر دہشت گردی کے مقدمات میں ہی لیے جاتے ہیں۔ساجد جاوید نے کہا کہ میں برطانیہ کا سیکرٹری داخلہ ہوں، اور میرا کام برطانوی عوام کو تحفظ دینا ہے، وہ کرنا جو میرے مطابق برطانوی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے صحیح ہو۔ یہی میرا اولین کام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…