ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن بننے والوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب امریکہ کے بعد ایک اور بڑے ملک نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ، یہ ملک کونسا ہے؟

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

کنبرا(نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکوٹ موریسن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اب مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تل ابیب سے سفارت خانے کی منتقلی پر امن تصفیے سے قبل عمل میں نہیں آئے گی۔موریسن کے مطابق بیت المقدس کو امن معاہدے میں وضع کیے جانے پر آسٹریلیا مستقبل کی ایک فلسطینی ریاست کے

حوالے سے توقعات کی بھی پاسداری کرے گا جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔موریسن نے باور کرایا کہ مشرق وسطی میں “لبرل جمہوریت” کی سپورٹ آسٹریلیا کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایسی جگہ شمار کیا جہاں اسرائیل کو “بدسلوکی” کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موریسن اپنے تازہ اقدام کے ذریعے یہودی اور مسیحی ووٹرز میں اپنی مقبولیت کا گراف بلند کرنا چاہتے ہیں اور آئندہ برس عام انتخابات سے قبل امریکا میں اپنے “دوست بنانا” چاہتے ہیں۔ تاہم ساتھ ہی یہ فیصلہ آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دے گا۔ آسٹریلیا کی وزارت خارجہ اپنے بیان میں کہہ چکی ہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران جکارتا میں آسٹریلیا کے سفارت خانے اور سورابایا میں اس کے قونصل خانے کے اطراف ہونے والے احتجاجی مظاہرے آنے والے دنوں میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔دوسری جانب فلسطینی صدر کے مشیر برائے خارجہ ماور نبیل شعث نے باور کرایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کی صورت میں اس کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ شعث نیگزشتہ روز نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں آسٹریلوی وزیراعظم کو خبردار کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ یہ متوقع فیصلہ “مفت ہاتھ نہیں آئے گا”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…