ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’میں سانس نہیں لے سکتا‘‘ جمال خاشقجی کے آخری الفاظ منظرعام پر آ گئے ملزموں کی حوالگی سے متعلق سعودیہ نے ترکی کو کیاجواب دیدیا؟صورتحال شدید کشیدہ

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

نیو یارک(آن لائن)امریکی ٹی وی سی این این مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کی آڈیوٹیپ کے آخری الفاظ ‘‘میں سانس نہیں لے سکتا’’ منظرعام پر لے آیا۔امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے آخری الفاظ تھے کہ میں سانس نہیں لے سکتا، یہ الفاظ جمال خاشقجی کی موت سے چند لمحے پہلے کی آڈیوٹیپ کے ہیں۔

سی این این کے مطابق جمال خاشقجی کے معاملے پر پیش رفت سے آگاہ رکھنے کے لئے کئی فون کالزکی گئیں، تحریری ریکارڈ سے واضح ہے کہ جمال خاشقجی کا قتل سوچا سمجھا منصوبہ تھا جب کہ ترک حکام کو یقین ہے کہ فون کالز سعودی دارالحکومت ریاض میں اعلی حکام کوکی گئیں۔دوسری جانب سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سعودی شہری کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کریں گے اورترکی کے حکام ہمیں شواہد مہیا کریں جو ہم عدالت میں استعمال کرسکیں کیونکہ ہمیں معلومات اس طرح سے حاصل نہیں ہوئیں جس طرح سے ہونی چاہیے تھی۔ترک عدالت نے گزشتہ ہفتے سعودی ولی عہد کے سابق مشیر اور قریبی ساتھیوں سعود القحطانی اور احمد العسیری کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے، جن پر الزام ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی انہوں نے کی تھی۔واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی تفتیشی ادارے سی آئی اے رپورٹ کی سخت الفاظ میں تردید کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…