جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جمال خشوگی قتل : قاتل کومکمل امریکی آشیر باد حاصل ہے،ایران

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

تہران(آئی این پی)ایران کا کہنا ہے کہ جمال خشوگی کا بہیمانہ قتل امریکی حمایت کے بغیر نا ممکن ہے،صحافی کا قتل امریکہ کی سوچی سمجھی سازش ہے، سعودی حکمرانوں کی سیکیورٹی امریکہ کے مرہون منت ہے، سعودی حکمران طبقہ امریکہ کی مخالفت مول لینے کی ہمت نہیں رکھتا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ایران کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے کہا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی

نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا بہیمانہ قتل امریکا کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ بات انہوں نے ایرانی کابینہ کے اجلاس کی ملکی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی کارروائی کے دوران کہی۔ایران کے صدر روحانی نے اپنے بیان میں کہا،میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی ملک کے لیے اس قسم کی کارروائی کرنا امریکا کی مدد کے بغیر ممکن ہو سکتا ہے۔ خاشقجی کے قتل سے پہلے یہ سوچنا بھی ناممکن تھا کہ اس دور میں بھی ایسی ظالمانہ کارروائی اتنے منظم طریقے سے کی جا سکتی ہے۔روحانی کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسن سفاکانہ قتل کی منصوبہ بندی ایک ادارے نے کی تھی۔ ایرانی صدر نے سعودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، وہ قبائلی گروپ جو اس وقت سعودی عرب پر حکمران ہے محدود سکیورٹی پر انحصار کرتا ہے اور یہ سیکیورٹی مارجن امریکا کی حمایت ہے۔ یہ سپر پاور امریکا ہی ہے جو ریاض حکومت کی اعانت کر رہا ہے۔سعودی حکام کی جانب سے ہفتہ 20 اکتوبر کو یہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ سعودی حکومت کے نقاد صحافی جو کئی روز سے لاپتہ تھے، استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں دو اکتوبر کو مارے گئے تھے۔ قبل ازیں سعودی حکام کا یہی کہنا تھا کہ جمال خاشقجی قونصل خانے میں اپنا کام مکمل کر کے وہاں سے واپس لوٹ گئے تھے۔جمال خاشقجی امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے تھے۔ سعودی حکومت کو خاشقجی کے قتل کے معاملے پر شدید عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ منگل کے روز امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل کو جس انداز میں چھپانے کی کوشش کی گئی، وہ اپنی نوعیت کی بدترین مثال ہے۔ایران خطے میں اپنے حریف ملک سعودی عرب پر عالمی پیمانے پر ہونے والی اس تنقید پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور بحرین نے پاسداران انقلاب ایران کو گزشتہ روز دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق اس کے ساتھ ہی ایران کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی عبدالرضا شہلائی کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔اس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل اسماعیل کوسری نے کہا،ایسے اقدمات اٹھا کر سعودی حکومت ملکی اور بین القوامی سطح پر لوگوں کی توجہ خاشقجی کے قتل سے ہٹانا چاہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…