جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اہوازپریڈحملہ، تہران کا واشنگٹن کو مجرم قرار دینا شرمناک اقدام ہے، امریکا

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک )امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نیایران کی جانب سے پریڈ حملے میں امریکی ہاتھ ہونے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کا امریکا کو فوجی پریڈ پرحملے میں مجرم قراردینا شرمناک اقدام ہے،امریکا کو ایرانی دھمکیوں سے کوئی پریشانی اور تشویش نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایران کی طرف سے اھواز شہر میں ہونے والی

ایک فوجی پریڈ پرداعش کے مبینہ حملے میں امریکا کو قصور وار قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران کا امریکا کو فوجی پریڈ پرحملے میں مجرم قراردینا شرمناک اقدام ہے۔پینٹا گون میں ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع نے ایران کی طرف سے اھواز حملے کے بعد امریکا کو دی جانے والی سنگین نتائج کی دھمکیوں کو بھی مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایرانی لیڈروں کی دھمکیوں سے کوئی پریشانی اور تشویش نہیں۔ ہم واضح کرچکے ہیں کہ پریڈ حملے میں ہمیں گھیسٹنے کا کوئی واز نہیں۔ امید ہے کہ ایرانی قیادت ٹھنڈے دماغ سے سوچیں گے۔قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کا وہ بیان مسترد کردیا تھا جس میں انہوں نے پریڈ حملے میں امریکا اور اس کے علاقائی حلیفوں کومورد الزام ٹھہرایا تھا۔ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایرانی رجیم پوری دنیا کا امن برباد کرنے کے بجائے اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ہفتے کو اہواز میں فوجی پریڈ کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 25 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایرانی فوج ‘پاسدارانِ انقلاب’ کے 12 اہلکار بھی شامل ہیں۔امریکی محکم خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوارٹ نے حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شدت پسند اسلامی دہشت گردی کے مقابلے میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سکیورٹی اداروں کو حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ حملے کی کڑیاں خطے میں امریکہ کے اتحادیوں سے ملتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…