جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

امریکا ، پاکستان مابین بڑھتی تلخی، وجہ محض افغانستان نہیں ،پاکستان امریکہ کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے کیونکہ ۔۔۔! وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ، حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی بجٹ تجاویز برائے سال 2019 اور چین کے حوالے سے کانگریس میں جمع کروائی گئی پینٹاگون کی رپورٹ برائے سال 2018 میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی تلخی کی وجہ افغانستان نہیں ہے،سی پیک پر چین اور امریکی مفادات کا باہم ٹکراؤ ہے،امریکہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ پاکستان اسکی گرفت سے بتدریج آزاد ہو رہا ہے،

چین اور روس کو امریکا کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مرکزی خطرہ قرار دیا گیا ہے،جنوبی ایشیا پر چینی گرفت کی کمزوری کے لئے امریکا بھارت گٹھ جوڑ نا گزیر ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی بجٹ تجاویز برائے سال 2019 اور چین کے حوالے سے کانگریس میں جمع کروائی گئی پینٹاگون کی رپورٹ برائے سال 2018 میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تلخی کی وجہ صرف افغانستان نہیں ہے۔دستاویزات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کو یہ خوف ہے کہ اس کی گرفت پاکستان پر رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔بجٹ دستاویز میں چین اور روس کو امریکا کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مرکزی خطرہ قرار دیا گیا اور اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسری جانب پینٹاگون سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ چین اپنے دیرینہ دوست ممالک میں اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا جیسا کہ پاکستان، جو اس سے قبل بھی غیر ملکی افواج کی میزبانی کرچکا ہے۔امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بھی اس امریکی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ پاکستان میں بننے والے چینی منصوبے ون بیلٹ، ون روڈ پر چین اور امریکا کے مفادات کا ٹکرا ہے۔امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ چین عالمی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے قرضوں کے جال میں پھانسنے والی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، جس میں وہ دیگر ممالک کو ایسے منصوبوں کے لیے قرض فراہم کرتا ہے

جس کے اخراجات وہ خود نہیں اٹھاسکتے جبکہ چین نے اسے محض مغربی پروپیگنڈا قرار دیا۔امریکی قومی سلامتی حکمت عملی کے بیان کے مطابق چین اور روس، دیگر ممالک کے اقتصادی امور، سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی فیصلوں پر ویٹو پاور حاصل کرکے اپنے آمرانہ ماڈل کے ذریعے دنیا کو بھی چلانا چاہتے ہیں۔ادھر امریکی بجٹ دستاویز میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کس طرح اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مضبوط اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر تیزی سے تبدیل ہونے والی مزید مہلک’ مشترکہ قوت تشکیل دینا چاہتی ہے۔یہ اتحاد اور نئی قوت امریکی اثر و رسوخ اور طاقت کا توازن برقرار رکھے گی جس سے آزاد اور وسیع بین الاقوامی نظام کو فروغ ملے گا۔دستاویز میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ امریکا نے خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…