جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی جانے کی خواہشمند دلہن ایئرپورٹ سے ہی ڈی پورٹ،انتہائی افسوسناک وجہ سامنے آگئی

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

دبئی(آئی این پی )دبئی جانے کی خواہشمند نو بیاہتا دبئی پہنچتے ہی ڈی پورٹ کر دی گئی، خاتون کے شوہر نے جعلی ویزا 4 ہزار درہم میں خریدا تھا، جعلی ویزا فراہم کرنے والے 2 ملزمان کو حراست میں لے لیاگیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فیس بک پر دبئی کا ویزا خریدنے والی نوبیہاتا دلہن کو دبئی پہنچتے ہی ڈی پورٹ کردیا گیا۔

گلف نیوز کے مطابق دبئی جانے کی خواہش مند دلہن کو فیس بک پر جعلی ویزا خریدنے پر دبئی پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے ڈی پورٹ کردیا گیا، خاتون کے شوہر نے جعلی ویزا 4 ہزار درہم میں خریدا تھا۔دبئی پولیس کے مطابق عرب خاتون کے شوہر نے فیس بک پر لگے اشتہار کے ذریعے جعلی ویزا خریدا تھا۔خاتون کے شوہر کے لینڈ لائن نمبر پر کال کی اور فیس پیج ایڈمن سے گفتگو کی، جس میں انہیں 7 ہزار درہم اور خاتون کے سفری کاغذات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، پیج ایڈمن نے 4 ہزار درہم کی پہلی قسط فجیرا میں مقیم ایک اور شخص کو فراہم کرنے کو کہا۔خاتون ویزا حاصل کرنے کے بعد دبئی ایئرپورٹ پہنچ گئیں جہاں انہیں معلوم ہوا کہ ویزا جعلی ہے، ایئرپورٹ حکام کی جانب سے نوبیہاتا دلہن کو ڈی پورٹ کردیا گیا۔خاتون کے شوہر کی جانب سے شکایت درج کرانے کے بعد دبئی پولیس حرکت میں آئی اور جعلی ویزا فراہم کرنے والے 2 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔دونوں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تیسرا ساتھی جو پیج کا ایڈمن بھی ہے وہ دوسرے ملک میں مقیم ہے، مذکورہ گینگ جعلی ویزا فراہم کرنے کے لیے 7 سے 9 ہزار درہم وصول کرتا تھا۔دبئی پولیس نے ملزمان کے قبضے سے جعلی ویزا کے لیے وصول کیے گئے 40 ہزار درہم سمیت کمپیوٹر اور دیگر آلات برآمد کرلیے۔لیفٹیننٹ کرنل حماد کے مطابق دوسرے ملک میں مقیم تیسرے شخص کے وارنٹ جاری کردئیے گئے ہیں جبکہ گرفتار دونوں ملزمان سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔بریگیڈیئر الموہیری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تصدیق شدہ کمپنیز سے ویزا حاصل کریں، سوشل میڈیا پر چلنے والے جعلی اشتہار اور انجان افراد پر بھروسہ نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…