بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں آگیا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ

datetime 12  جولائی  2018 |

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گیس پائپ لائن منصوبے سے جرمنی مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں آگیا ہے اور اس کا دستِ نگر بن گیا ہے۔انھوں نے یہ بات برسلز میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل ناشتے کے موقع پر کہی ہے۔وہ نارڈ اسٹریم 2 پائپ لائن کا حوالہ دے رہے تھے ۔اس کے ذریعے روس سے جرمنی کے شمال

مشرقی بالٹک ساحلی علاقے کو گیس مہیا کی جائیگی۔اس سے مشرقی یورپ کے ممالک پولینڈ اور یوکرین وغیرہ کو بائی پاس کردیا گیا ہے اور روس براہ راست جرمنی کو دْگنا مقدار میں گیس مہیا کرسکے گا۔امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک روس سے جرمنی تک زیرِ سمندر بچھائی جانے والی اس بڑی پائپ لائن کی مخالفت کررہے ہیں۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس سے ماسکو کو مغربی یورپ کے ممالک پر زیادہ اثر ورسوخ حاصل ہوجائے گا۔صدر ٹرمپ نے ناشتے پر گفتگو کرتے ہوئے جرمنی کو مخاطب ہوکر کہا کہ جب آپ روس کے ساتھ سودے طے کررہے ہیں تو پھر امریکا کو آپ کا تحفظ کیونکر کرنا چاہیے۔آپ بتائیے کیا یہ مناسب ہے؟انھوں نے کہا کہ جہاں تک مجھے تشویش لاحق ہے، جرمنی اس وقت مکمل طور پر روس کے قبضے میں ہے‘‘۔انھوں نے نیٹو پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر غور کرے۔ آج صدر ٹرمپ کی جرمن چانسلر انجیلا سے بھی ملاقات متوقع ہے۔دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے امریکی صدر کے بیان سے پیدا ہونے والی تپش کو سربراہ اجلاس سے کم کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اپنے درمیان اختلافات کے باوجود مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔صدر ٹرمپ نیٹو کے رکن ممالک پر یہ بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ تنظیم کے اخراجات کے لیے رقوم مہیا کریں اور امریکا پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کریں۔ نیٹو ممالک نے 2014ء میں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فی صد تنظیم کے بجٹ کے لیے دینے سے اتفاق کیا تھا مگر ابھی تک تنظیم کے نصف سے زیادہ ممالک اپنی اس مالی ذمے داری کو پورا نہیں کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…