منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹرین حکومت کی جانب سے مساجد کی بندش کے خلاف کوئی ٹھوس جواز پیش نہیں کیا جا سکا ،ترکی کا ردعمل

datetime 11  جون‬‮  2018 |

انقرہ/ویانا(این این آئی) وسطی یورپ کے ملک آسٹریا کی جانب سے سات مساجد کی بندش اور ترک فنڈز لینے والے اماموں کو بے دخل کرنے کے خلاف فیڈریشن آف مسلم ریزیٹنس (آئی جی جی او) نے حکومتی اعلان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے آسٹریا کی جانب سے غیر اسلامی اقدام پر تنقید کی اور ردعمل کے اظہار کا وعدہ کیاہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے آسٹریا کی جانب سے غیر اسلامی اقدام پر تنقید کی اور ردعمل کے اظہار کا وعدہ کیا۔صدارتی ترجمان ابراہیم کلیم نے کہا کہ ویانا کی حکومت ملک میں مذہبی کمیونٹی کو حوصلہ شکنی چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ فیصلہ سیاسی اسلام کو قابوکرنے کے لیے مناسب نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں آسٹریا اور اس کے اندر رہنے والی مسلم کمیونٹی کے انتظامی ڈھانچے کمزور ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تاحال آسٹرین حکومت کی جانب سے مساجد کی بندش کے خلاف کوئی ٹھوس جواز پیش نہیں کیا جا سکا جس میں 4 مساجد ویانا میں ہیں۔ابراہیم کلیم نے تنقید کی کہ حکومت نے فیڈریشن کو قبل از اعلان اعتماد میں نہیں لیا اور ماہ رمضان کے ممکنہ طور پر آخری جمعے کو مساجد کی بندش اعلان کر ڈالا۔صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ مذاکرات کی ضرورت ہے ناکہ مسلم اقلیت کے پس پردہ ان کے خلاف خود ساختہ فیصلہ کرلیا جائے۔ادھر ترکش اسلامک کونین نے مساجد میں انتہا پسندانہ رحجانات پروان چڑھانے سے متعلق آسٹریا کے تحفظات کو قطعی رد کردیا تاہم انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اماموں کی ضروری تربیت کے لیے ترکی محدود مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…