ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں اور 2016کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے دراصل۔۔ترکی نے دبنگ اعلان کر دیا، کھل کر ایسی بات کہہ دی کہ جس کی بہت سے ممالک کو جرأت نہیں ہو تی

datetime 2  جون‬‮  2018 |

انقرہ(این این آئی)ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے کہا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی اور یورپی یونین کو ترکی کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین میں صرف چند ممالک ہی ترکی کی اس بلاک میں شمولیت کے خلاف ہیںترکی میں 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے کئی یورپی ممالک کا بھی ہاتھ تھاتقریبا سبھی ممالک ہی شامل تھے۔جرمن ریڈیو سے بات چیت میں ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو

نے ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات، شام کی خانہ جنگی اور ترکی میں2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے علاوہ دیگر کئی اہم موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس شواہد ہیں لیکن اس تناظر میں انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ مولود چاؤش اولو کا مزید کہنا تھا کہ انہیں تعجب ہے کہ اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد کوئی مغربی سیاستدان ترکی کیوں نہیں آیا۔شامی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ شامی عوام کو ہی کرنا چاہیے یہ شامی عوام کا استحقاق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ملک کو رہنما کون ہو گا۔ اس لیے ہمیں اس ملک کو جمہوری انتخابی عمل کے لیے تیار کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ترکی اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں قیام امن کی خاطر انقرہ حکومت نے روس کے ساتھ کام کرنا بھی شروع کر دیا ہے جبکہ اس میں ایران کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو یہ پسند آئے یا نہ لیکن ایران بھی اس معاملے میں ایک اہم فریق ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ترک حکومت کو ایران کے ساتھ متعدد اختلافات بھی ہیں، جن میں بشار الاسد کا معاملہ بھی شامل ہے۔مولود چاؤش اولو کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی ملک یا شخص کے ساتھ مل کر کام کیا جاتا ہے تو لازمی نہیں کہ تمام معاملات پر ہی اتفاق کر لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…