منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ خود ہی تباہی کے دہانے پر پہنچنا چاہتا ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے،روس نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 1  جون‬‮  2018 |

ماسکو(آئی این پی) روسی اقتصادی ترقیاتی وزیرمیکسم اوریشکن نے امریکہ کی موجودہ تجارتی پالیسیو ں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ خود ہی تباہی کے دہانے پر پہنچنا چاہتا ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے، امریکی پالیسیاں عالمی معیشت کے لیئے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 مارچ کے روز اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر بالترتیب 25 اور10 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔

روسی اقتصادی ترقیاتی وزیرمیکسم اوریشکن نے امریکہ کی موجودہ تجارتی پالیسیو ں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسوقت امریکہ خود اپنے پاں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ ان پالیسیوں سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔”وزارت برائے روسی اقتصادی ترقیاتی امور کے پریس دفتر سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اوریشکن نے عالمی تجارتی تنظیم کے پیرس میں منعقدہ اجلاس کے دائرہ کار میں حالیہ ایام میں امریکی تجارتی پالیسیوں پر اپنے جائزے پیش کیے۔انہوں نے اس بات کا دفاع کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ان پالیسیوں سے اپنی معیشت میں سست روی لا نے کا موجب بن رہی ہے، یعنی دوسرے الفاظ میں یہ اپنے پاں پر خود ہی کلہاڑی مار رہا ہے، امریکہ کے باعث شرح سود میں اضافہ ہو گا، ترقی پذیر مالی منڈیوں کی سخت گیر مالی پالیسیوں ، محدود تجارتی سرگرمیوں اور عالمی شرح نمو میں سست روی لانے کا موجب بنیں گی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 مارچ کے روز اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر بالترتیب 25 اور10 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیے جانے کا اعلان کیا تھا جبکہ کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، آسڑیلیا، ارجنٹائن، برازیل اور جنوبی کوریا کو یکم جون تک اس عمل درآمد سے مبرا قرار دیا تھا۔ روسی اقتصادی ترقیاتی وزیرمیکسم اوریشکن نے امریکہ کی موجودہ تجارتی پالیسیو ں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ خود ہی تباہی کے دہانے پر پہنچنا چاہتا ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…