جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارتی فورسز پر اپنے ہی ملک پرخوفناک حملہ ، متعدد اہلکار ہلاک

datetime 20  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک بم دھماکے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق دھماکا میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا،جو چولنرکے علاقے سے کراندول جارہی تھی۔ہلاک ہونے والوں میں 3 اہلکاروں کا تعلق چھتیس گڑھ آرم فورس اور 2 کا تعلق دانتی والا کی ضلعی پولیس سے تھا۔دھماکا خیز مواد کو آئی ای ڈی ڈیوائس کی مدد سے اڑایا گیا۔

دھماکا اس وقت ہوا جب سیکیورٹی اہلکار سرچ آپریشن میں مصروف تھے۔دوسرجانب پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد ماؤ باغی پولیس اہلکاروں کا اسلحہ لے کر فرار ہوگئے۔واضح رہے کہ 24 اپریل 2017 کو بھارت کے وسطی علاقے میں مبینہ ماؤ باغیوں نے پیرا ملٹری فورسز کے کمانڈوز پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 24 اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل 12 مارچ 2017 کو بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں 11 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے تھے۔2 فروری 2017 کو جنوب مشرقی بھارت میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔وسطی اور مشرقی ہندوستان کے جنگلات میں ماؤ باغیوں اور حکومت کے درمیان مسلح کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے۔ماؤ باغیوں کا کہنا تھا کہ وہ قبائلی افراد اور بے زمین کسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، کے ممکنہ طور پر اخراجات بھتہ وصولی سے پورے ہوتے ہیں۔ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ماؤ باغیوں کی بغاوت کو ملک کی داخلی سیکیورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ غریبوں کے لیے زمین، نوکری اور دیگر حقوق کے لیے لڑرہے ہیں۔ماؤ باغی بھارت کی 20 ریاستوں میں سرگرم ہیں، جن میں چھتیس گڑھ، اڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ اور مہارشٹرا کی ریاستیں سر فہرست ہیں۔ہندوستان میں 1960ء سے جاری ماؤ باغیوں کی بغاوت میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ناقدین نے حکومت کی جانب سے ماؤ باغیوں کیخلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر تنقید کرتے ہوئے تجویز دی کہ اس تنازع کو بہتر حکمرانی اور خطے میں ترقی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…