جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

قندوز ،دستاربندی کی تقریب کے دوران مدرسے پر فضائی حملوں میں کتنے بچے نشانہ بنے ؟اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)افغان صوبے قندوز کے ارچی ضلع میں 2 اپریل کے فضائی حملوں سے متعلق ایک تازہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے افغانستان سے متعلق مشن کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں جس کے مطابق فضائی حملوں کی زد میں آنے والوں کی تعداد 107 تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ قندوز میں مدرسے میں ہونے والی دستاربندی کی تقریب پرحملے میں 36 افرادجاں بحق جب کہ 71 زخمی ہوئے۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بچوں کی تعداد 81 تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کو اضافی مستند معلومات ملی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔رپورٹ کی بنیاد 90 سے زیادہ انٹرویوز ہیں جو متاثرین، عینی شاہدین، حکومتی عہدے داروں اور طبی عملے سے کیے گئے تھے۔یہ معلومات فیکٹ فائنڈنگ مشن کی حاصل کردہ اعداد وشمار پر مبنی ہیں۔اس رپورٹ میں اس کلیدی پہلو کا حوالہ دیا گیا ہے کہ حکومت کا کہنا تھا کہ فضائی حملے میں وہاں موجود طالبان کی سینئر قیادت کو ہدف بنایا گیا تھا۔ انہوں نے یا ان کے ایک گروہ نے مذہبی اجتماع کے اندر اور اس کے آس پاس راکٹوں اور بھاری مشین گنوں سے حملہ کیا، جس سے عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ حکومت کے دعویٰ کے مطابق طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت بچوں کی تھی۔رپورٹ میں وضاحت سے یہ بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کا مشن کیوں اس قابل نہیں تھا کہ وہ ہر جاں بحق اور زخمی ہونے والے کی تصدیق کر سکے۔ اور نہ ہی مشن اس پوزیشن میں تھا کہ وہ یہ تعین کر سکے کہ طالبان لیڈر علاقے میں موجود تھے یا فضائی حملے کے وقت طالبان کی جانب سے کارروائی کی گئی تھی۔رپورٹ میں حکومت کے لیے کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں جس میں یہ یقینی بنانے کے لیے فوجی پالیسیوں کا جائزہ بھی شامل ہے کہ وہ عام شہریوں کے تحفظ کے لیے انسانی ہمددردی دے متعلق بین الاقوامی قوانین پر ہمہ وقت عمل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…