منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قندوز ،دستاربندی کی تقریب کے دوران مدرسے پر فضائی حملوں میں کتنے بچے نشانہ بنے ؟اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)افغان صوبے قندوز کے ارچی ضلع میں 2 اپریل کے فضائی حملوں سے متعلق ایک تازہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے افغانستان سے متعلق مشن کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں جس کے مطابق فضائی حملوں کی زد میں آنے والوں کی تعداد 107 تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ قندوز میں مدرسے میں ہونے والی دستاربندی کی تقریب پرحملے میں 36 افرادجاں بحق جب کہ 71 زخمی ہوئے۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بچوں کی تعداد 81 تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کو اضافی مستند معلومات ملی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔رپورٹ کی بنیاد 90 سے زیادہ انٹرویوز ہیں جو متاثرین، عینی شاہدین، حکومتی عہدے داروں اور طبی عملے سے کیے گئے تھے۔یہ معلومات فیکٹ فائنڈنگ مشن کی حاصل کردہ اعداد وشمار پر مبنی ہیں۔اس رپورٹ میں اس کلیدی پہلو کا حوالہ دیا گیا ہے کہ حکومت کا کہنا تھا کہ فضائی حملے میں وہاں موجود طالبان کی سینئر قیادت کو ہدف بنایا گیا تھا۔ انہوں نے یا ان کے ایک گروہ نے مذہبی اجتماع کے اندر اور اس کے آس پاس راکٹوں اور بھاری مشین گنوں سے حملہ کیا، جس سے عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ حکومت کے دعویٰ کے مطابق طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت بچوں کی تھی۔رپورٹ میں وضاحت سے یہ بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کا مشن کیوں اس قابل نہیں تھا کہ وہ ہر جاں بحق اور زخمی ہونے والے کی تصدیق کر سکے۔ اور نہ ہی مشن اس پوزیشن میں تھا کہ وہ یہ تعین کر سکے کہ طالبان لیڈر علاقے میں موجود تھے یا فضائی حملے کے وقت طالبان کی جانب سے کارروائی کی گئی تھی۔رپورٹ میں حکومت کے لیے کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں جس میں یہ یقینی بنانے کے لیے فوجی پالیسیوں کا جائزہ بھی شامل ہے کہ وہ عام شہریوں کے تحفظ کے لیے انسانی ہمددردی دے متعلق بین الاقوامی قوانین پر ہمہ وقت عمل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…