جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

حکومت کی طرف سے پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد سعودی خواتین نے ایسا کام کر کے دکھا دیا کہ سعودی مردوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے 3ماہ کے دوران کس طرح ہچکولے کھاتی معیشت کو اربوں ریال کا منافع ہوا؟

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں مقامی شہریوں میں مالی سال 2017ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فی صد کی سطح پر برقرار رہی ہے۔ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ مقامی مرد وخواتین کو روزگار کے مواقع مہیا کررہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ادارہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر فہد التخیفی سے اس حوالے سے گفتگو کی ۔انھوں نے بتایا کہ سعودی معیشت میں خواتین کی شرکت

میں اضافہ ہوا ہے اور 2017ء کی چوتھی سہ ماہی میں سعودی معیشت کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت کا تناسب 19.4 فی صد رہا ہے جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ تناسب 17.8 فی صد تھا۔اس سہ ماہی کے دوران میں سعودی مردوں کی ملکی معیشت میں شرکت کی شرح 63.4 فی صد رہی ہے۔اس کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی میں مردوں کی شرکت کی شرح 62.6 فی صد رہی تھی۔ڈاکٹر فہد التخیفی نے بتایا کہ سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔دوسری جانب سعودی وزیر مالیات محمد بن عبداللہ الجدعان نے مالی سال2018ء کے بجٹ کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ نان آئل آمدن کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزارت مالیات کی جانب سے سعودی عرب کے سالانہ بجٹ کے بارے میں جاری معلومات میں بتایاگیاکہ پہلی سہ ماہی میں مجموعی آمدن کا حجم 166.263 ارب ریال رہا۔ یہ سال 2017ء میں اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کیے جانے والے حجم سے 15% زیادہ ہے۔اس دوران نان آئل آمدنی کا حجم 52.316 ارب ریال رہا جو گزشتہ برس اسی عرصے کےدوران ریکارڈ کی جانے والی آمدن کے مقابلے میں 63% زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ سہ ماہی میں تیل سے ہونے والی آمدن کا حجم 113.947 ارب ریال رہا۔ اس طرح گزشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے

میں 2% کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پہلی سہ ماہی میں مجموعی اخراجات کا حجم 200.592 ارب ریال رہا جو گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 18% زیادہ ہے۔ اس طرح پہلی سہ ماہی میں مجموعی خسارہ 34.329 ارب ریال رہا۔وزیر مالیات الجدعان کے مطابق پہلی سہ ماہی میں نان آئل آمدن کی شرح نمو میں اچھا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی اخراجات کو پورے مالیاتی سال پر متوازن صورت میں تقسیم کیا جائے اور موسمی خرچ پر روک لگائی جائے۔ اس کا مقصد اقتصادی شرح نمو کو مضبوط بنانا اور اخراجات سے حاصل ہونے والے فوائد میں اضافہ کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…