اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی جنگ کے دوران پائلٹ بننے والی افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ کو امریکہ نے پناہ دیدی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی جنگ کے دوران پائلٹ بننے والی افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ نیلوفر رحمانی کو امریکہ نے پناہ دیدی۔نیلوفر افغان ایئر فورس کی سابقہ کیپٹن ہیں جنہوں نے 2015 میں پائلٹ کی
ٹریننگ کیلئے اپنا ملک چھوڑکر امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکہ نے نیلوفر رحمانی کو پائلٹ بنانے کیلئے تمام خرچ خود ادا کیا تاہم اب امریکہ حکام کی جانب سے فیصلہ کیا گیاہے کہ انہیں واپس ان کے گھر بھیجنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔نیلوفر اس وقت صرف 18 سال کی تھیں جب انہوں نے افغان آرمی میں شمولیت اختیا ر کی اور ہمیشہ پائلٹ بننے کی خواہشمند رہیں ۔رحمانی نے جب 2013 میں اپنی ٹریننگ مکمل کی تو یہ عوامی سطح پر یہ بہت مشور ہو گئیں کیونکہ افغانستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا اسی کی وجہ سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ،ان کو طالبان کے علاوہ ان کے اپنے خاندان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا جو کہ اس پیشے کو باعث ذلت سمجھتے ہیں ۔نیلو فر کا کہناتھاکہ جنہوں نے مجھے امریکہ میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے میں ان کی شکر گزار ہیں ، میں اب صرف یہ چاہتی ہوں کہ میں اڑان بھرنے کا اپنا خواب پورا کروں ۔امریکہ نے نیلوفر رحمانی کو پائلٹ بنانے کیلئے تمام خرچ خود ادا کیا تاہم اب امریکہ حکام کی جانب سے فیصلہ کیا گیاہے کہ انہیں واپس ان کے گھر بھیجنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔نیلوفر اس وقت صرف 18 سال کی تھیں جب انہوں نے افغان آرمی میں شمولیت اختیا ر کی اور ہمیشہ پائلٹ بننے کی خواہشمند رہیں ۔رحمانی نے جب 2013 میں اپنی ٹریننگ مکمل کی تو یہ عوامی سطح پر
یہ بہت مشور ہو گئیں کیونکہ افغانستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا اسی کی وجہ سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ،ان کو طالبان کے علاوہ ان کے اپنے خاندان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا جو کہ اس پیشے کو باعث ذلت سمجھتے ہیں ۔نیلو فر کا کہناتھاکہ جنہوں نے مجھے امریکہ میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے میں ان کی شکر گزار ہیں ، میں اب صرف یہ چاہتی ہوں کہ میں اڑان بھرنے کا اپنا خواب پورا کروں ۔



















































