جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

جامعہ الازہر کی فرانسیسی شخصیات کے قرآنی آیات حذف کرنے کے مطالبے کی مذمت

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

قاہرہ(این این آئی)مصر کی قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر نے فرانس کی متعدد سرکردہ شخصیات کی جانب سے قتال سے متعلق بعض قرآنی آیات کو حذف کرنے کے مطالبے کی مذمت کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فرانس کے سابق صدر نیکولا سارکوزی اور سابق وزیراعظم مینول والس سمیت متعدد شخصیات کا فرانسیسی روزنامے میں ایک خط شائع ہوا ہے اور اس میں انھوں نے مذموم مطالبہ کیا کہ قرآن مجید کی جن آیات میں یہود ، عیسائیوں اور بے دین ملحدوں کے قتل کا کہا گیا ہے،انھیں حذف کردیا جائے۔

اس کے ردعمل میں جامعہ الازہر کے نائب نے ایک تقریر میں کہا کہ قرآن کسی کے ایسے ہی ناحق قتل کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہ ظالموں اور جابروں کے خلاف دفاعی لڑائی کا حکم دیتا ہے۔نائب شیخ الازہر نے وقفے وقفے سے اس طرح کے بے تکے اور لایعنی مطالبات پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن میں ایسی آیات نہیں ہیں جن میں کسی فردکو اس کے کسی جرم کی پاداش کے بغیر قتل کا حکم دیا گیا ہو بلکہ قرآن میں کسی اور شخص کو ناحق قتل کرنے والے اور ہتھیار اٹھانے والے حربی کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر دوسروں کو ان آیات کی سمجھ نہیں آتی ہے تو اسلام اس کا ہرگز بھی ذمے دار نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قتال سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں دفاعی لڑائی کا ذکر ہے کہ جب کسی پر حملہ کیا جائے تو وہ کیسے اپنا دفاع کرے گا ،نہ کہ جارحانہ لڑائی کی ترغیب دی گئی ہے۔مصر کے دارالافتاء سے وابستہ اسلام فوبیا پر نظر رکھنے والی رصدگاہ نے بھی فرانسیسی شخصیات کے اس مطالبے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ گاہے گاہے یورپ میں بعض لوگوں کی جانب سے اس طرح کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں ،یہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کا موجب بنتے ہیں اور فرانسیسی عوام کے درمیان بھی ایک نیا تنازع پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…