ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جامعہ الازہر کی فرانسیسی شخصیات کے قرآنی آیات حذف کرنے کے مطالبے کی مذمت

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

قاہرہ(این این آئی)مصر کی قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر نے فرانس کی متعدد سرکردہ شخصیات کی جانب سے قتال سے متعلق بعض قرآنی آیات کو حذف کرنے کے مطالبے کی مذمت کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فرانس کے سابق صدر نیکولا سارکوزی اور سابق وزیراعظم مینول والس سمیت متعدد شخصیات کا فرانسیسی روزنامے میں ایک خط شائع ہوا ہے اور اس میں انھوں نے مذموم مطالبہ کیا کہ قرآن مجید کی جن آیات میں یہود ، عیسائیوں اور بے دین ملحدوں کے قتل کا کہا گیا ہے،انھیں حذف کردیا جائے۔

اس کے ردعمل میں جامعہ الازہر کے نائب نے ایک تقریر میں کہا کہ قرآن کسی کے ایسے ہی ناحق قتل کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہ ظالموں اور جابروں کے خلاف دفاعی لڑائی کا حکم دیتا ہے۔نائب شیخ الازہر نے وقفے وقفے سے اس طرح کے بے تکے اور لایعنی مطالبات پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن میں ایسی آیات نہیں ہیں جن میں کسی فردکو اس کے کسی جرم کی پاداش کے بغیر قتل کا حکم دیا گیا ہو بلکہ قرآن میں کسی اور شخص کو ناحق قتل کرنے والے اور ہتھیار اٹھانے والے حربی کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر دوسروں کو ان آیات کی سمجھ نہیں آتی ہے تو اسلام اس کا ہرگز بھی ذمے دار نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قتال سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں دفاعی لڑائی کا ذکر ہے کہ جب کسی پر حملہ کیا جائے تو وہ کیسے اپنا دفاع کرے گا ،نہ کہ جارحانہ لڑائی کی ترغیب دی گئی ہے۔مصر کے دارالافتاء سے وابستہ اسلام فوبیا پر نظر رکھنے والی رصدگاہ نے بھی فرانسیسی شخصیات کے اس مطالبے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ گاہے گاہے یورپ میں بعض لوگوں کی جانب سے اس طرح کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں ،یہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کا موجب بنتے ہیں اور فرانسیسی عوام کے درمیان بھی ایک نیا تنازع پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…