اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں شمسی توانائی کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

datetime 28  مارچ‬‮  2018 |

ریاض/اسلام آباد(آئی این پی/مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے نیویارک میں جاپانی گروپ’’سوفٹ بنک‘‘ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب میں 200 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے شمسی توانائی کے دنیا کے سب سے بڑے منصوبے کا قیام عمل میں آئے گا۔دنیا کے اس سب سے بڑے منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ سال 2030 تک پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

یادداشت پر شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ سوفٹ بینک ویژن فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ نے دستخط کیے۔سمجھوتے کے تحت فریقین سعودی عرب میں شمسی توانائی کے ذخیرے کے نظام کی تیاری اور ترقی کا طریقہ کار دریافت کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں تجارتی سطح پر شمسی توانائی کے پینل تیار کرنے کے لیے کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا تا کہ ان پینلوں کو مقامی اور بین الاقوامی طور پر فروخت کیا جا سکے۔اس یادداشت کے نتیجے میں سامنے آنے والے منصوبوں کے ذریعے سعودی عرب میں روزگار کے ایک لاکھ کے قریب مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی مجموعی مقامی پیداوار میں 12 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔اس سے قبل شہزادہ محمد بن سلمان نے نیویارک میں سوفٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو ماسا سان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سرماریہ کاری کے متعدد مواقع کا جائزہ لیا گیا۔یاد رہے کہ سعودی ولی عہد امریکا کے تین ہفتوں کے سرکاری دورے پر 20 مارچ کو واشنگٹن پہنچے تھے۔واضح رہے کہ پاکستان میں بہاولپور میں قائداعظم سولر پاور پروجیکٹ کے نام پر 100میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگایا گیا ہے جو کہ پنجاب حکومت کی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں اہم پیشرفت ہے تاہم قائداعظم سولر پاور منصوبے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں کرپشن کا انکشاف کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…