اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مردہ قرار دیا گیا شخص عدالت پہنچ گیا، جج کا زندہ ماننے سے انکار،دلچسپ صورتحال،جج نے 15سال پرانافیصلہ برقرار رکھا

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

بخارسٹ(مانیٹرنگ ڈیسک)  رومانیہ میں 68 سالہ شخص اپنے زندہ ہونے کا ثبوت لے کر عدالت پہنچ گیا تاہم جج نے اس کے دعوے کو مسترد کردیا۔مقامی میڈیا کے مطابق ری لیو 1992ء4 میں ترکی پہنچا تھا تاہم اس کا رابطہ رومانیہ میں موجود اپنے اہل خانہ سے کٹ گیا تھا ، پندرہ سال تک شوہر کی کوئی خبر نہ پاکر رومانیہ میں مقیم اہلیہ نے بیوگی کے سرٹیفکیٹ کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت نے تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ پر ری لیو کو مردہ قرار دے کر اہلیہ کو بیوگی کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔حال ہی میں ری لیو کو ترکی سے ڈی پورٹ کردیا گیا اور وہ رومانیہ واپس پہنچ گیا جہاں اسے سرکاری طور پر مردہ قرار دے دیا گیا تھا ری لیو نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی اور استدعا کی کہ اہلیہ نے طویل عرصے تک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مردہ سمجھ کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا ہے حالانکہ وہ زندہ ہے۔ری لیو نے رومانیہ کی عدالت میں بہ نفس نفیس عدالت پہنچ کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا تاہم عدالت نے ری لیو کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سرکاری دستاویز کو درست قرار دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو اس مسئلے کے حل کے لیے میونسپل حکام سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔عدالتی ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ شمال مشرقی شہر واسولوئی عدالت نے ری لیو کے دعوے کو تاخیر سے جمع کرانے کی وجہ سے مسترد کیا ہے اور تاحال انہیں مردہ قرار دینے کا 15 سال پرانا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔  رومانیہ میں 68 سالہ شخص اپنے زندہ ہونے کا ثبوت لے کر عدالت پہنچ گیا تاہم جج نے اس کے دعوے کو مسترد کردیا۔مقامی میڈیا کے مطابق ری لیو 1992ء4 میں ترکی پہنچا تھا تاہم اس کا رابطہ رومانیہ میں موجود اپنے اہل خانہ سے کٹ گیا تھا ، پندرہ سال تک شوہر کی کوئی خبر نہ پاکر رومانیہ میں مقیم اہلیہ نے بیوگی کے سرٹیفکیٹ کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ پر ری لیو کو مردہ قرار دے کر اہلیہ کو بیوگی کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…