اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

تارکین وطن کی نصف تعدادچوری چھپے موبائل استعمال کررہی ہے،اقوام متحدہ

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی) اقوام متحدہ نے کہاہے کہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس اسمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہاکہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس اسمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔

زیادہ تر افراد سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے ایپس کے لیے اسمارٹ فونز کی مدد لیتے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، اسکائپ، وائبر، جی پی ایس اور گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہاکہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس اسمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔ زیادہ تر افراد سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے ایپس کے لیے اسمارٹ فونز کی مدد لیتے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، اسکائپ، وائبر، جی پی ایس اور گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ تارکین وطن اسمارٹ فونز پر ترجموں، راستوں کی نشان دہی، سرحدی چوکیوں، مہاجرت پر آنے والے اخراجات، سیاسی پناہ کے لیے بہتر ممالک، پولیس سے بچنے کے طریقوں، انسانوں کے اسمگلروں تک رسائی، سفر کی تصاویر حتی کہ یورپ میں مہاجرت اور دیگر پالیسیوں تک کی معلومات ان اسمارٹ فونز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔تاہم مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیموں کے مطابق اس حوالے سے متعدد خطرات سے بھی تارکین وطن کو واقف ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ کہ تمام ایپس برابر نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر وٹس ایپ میں کی جانے والی گفت گو فقط وہی افراد پڑھ سکتے ہیں، جن کے درمیان یہ گفت گو ہو رہی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ تارکین وطن میں یہ ایپ مقبول بھی ہے اور اسے محفوظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ فیس بک میسنجر بھی پیغامات کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ڈیٹا کی پیش کش کرتا ہے، تاہم یہ ڈیفالٹ نہیں ہے اور اسے ایکٹیویٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے فیس بک میسنجر پر ہونے والی گفت گو کی نگرانی قدرے آسان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…