جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

تارکین وطن کی نصف تعدادچوری چھپے موبائل استعمال کررہی ہے،اقوام متحدہ

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی) اقوام متحدہ نے کہاہے کہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس اسمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہاکہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس اسمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔

زیادہ تر افراد سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے ایپس کے لیے اسمارٹ فونز کی مدد لیتے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، اسکائپ، وائبر، جی پی ایس اور گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہاکہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس اسمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔ زیادہ تر افراد سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے ایپس کے لیے اسمارٹ فونز کی مدد لیتے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، اسکائپ، وائبر، جی پی ایس اور گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ تارکین وطن اسمارٹ فونز پر ترجموں، راستوں کی نشان دہی، سرحدی چوکیوں، مہاجرت پر آنے والے اخراجات، سیاسی پناہ کے لیے بہتر ممالک، پولیس سے بچنے کے طریقوں، انسانوں کے اسمگلروں تک رسائی، سفر کی تصاویر حتی کہ یورپ میں مہاجرت اور دیگر پالیسیوں تک کی معلومات ان اسمارٹ فونز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔تاہم مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیموں کے مطابق اس حوالے سے متعدد خطرات سے بھی تارکین وطن کو واقف ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ کہ تمام ایپس برابر نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر وٹس ایپ میں کی جانے والی گفت گو فقط وہی افراد پڑھ سکتے ہیں، جن کے درمیان یہ گفت گو ہو رہی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ تارکین وطن میں یہ ایپ مقبول بھی ہے اور اسے محفوظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ فیس بک میسنجر بھی پیغامات کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ڈیٹا کی پیش کش کرتا ہے، تاہم یہ ڈیفالٹ نہیں ہے اور اسے ایکٹیویٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے فیس بک میسنجر پر ہونے والی گفت گو کی نگرانی قدرے آسان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…