جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی فوج کب واپس جائیگی،یہ معاملہ عراقی حکومت سے طے ہوناباقی ہے،ٹیلرسن

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ اب بھی داعش کے کچھ عناصر موجود ہیں، جو عراق کے لیے خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔امریکہ تب تک عراق میں رہے گا، جب تک اِن خطرات سے نمٹ نہیں لیا جاتا، اور ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہوجاتا کہ صورت حال تسلی بخش ہے۔عرب ٹی وی کو انٹرویومیں امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے کہاکہ عراق میں امریکی فوجیں کب تک رہیں گی۔

یہ معاملہ حکومت عراق اور وزیر اعظم عبادی سے اٹھایا جانا باقی ہے۔تاہم اْنھوں نے یاد دلایا کہ عراق میں انتخابات کا مرحلہ نزدیک ہے۔ ہم ابھی عراق میں ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ داعش پھر سے سر نہ اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ ایسا ہے کہ ہم نے داعش کو اس طرح شکست دی ہے کہ اْن کے زیر قبضہ تمام علاقہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔ لیکن، اب بھی چوکنہ رہنے کی ضرورت ہے۔ٹلرسن نے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عالمی اتحاد نے داعش کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔اس ضمن میں اْنھوں نے بتایا کہ نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، جس میں راہنما اصول طے کیے گئے ہیں، جس پر سب ارکان کو عمل پیرا ہونا ہوگا اس میں اطلاعات کا تبادلہ اطلاعات اکٹھے کرنا اور انٹرپول ڈیٹابیس استعمال کرنا شامل ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ داعش کو دیرپہ شکست دی جاسکے۔اسرائیل، ایران اور شام کے درمیان حالیہ جھڑپ سے متعلق ایک سوال پر، امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس متعلق اْن کی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ بات چیت کا محور لبنان اور لبنانی حزب اللہ کے علاوہ شام کی جانب سے خطرات سے نبردآزما ہونا تھا۔ اْنھوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو لاحق خدشات کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اور ہمارا یہ مؤقف ہے کہ اِن خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے اسرائی کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔اْنھوں نے مزید کہا کہ ہمیں نہ صرف اس بات پر تشویش ہے کہ شام عدم استحکام کا باعث نہ بنے جس سے اسرائیل کو مزید خطرات درپیش ہوں۔

بلکہ اس سے اردن، ترکی اور دیگر ہمسایہ ملکوں کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے؛ اور یہی وجہ ہے کہ جب تک داعش کو مکمل طور پر شکست نہیں دی جاتی، ہم شام میں رہیں گے۔ ہم شام کے سیاسی حل کے لیے اپنی کوششیں کرتے رہیں گے، جس سے ہی شام میں طویل مدتی استحکام آسکتا ہے اور شام کا صحیح معنوں میں آزاد تشخص برقرار رہ سکتا ہے۔ایران کے اثر و رسوخ کے بارے میں، ٹلرسن نے بتایا کہ سیاسی امن عمل کے ذریعے ہی ایران کے اثر و رسوخ کا جواب دیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ روس اور ایران کو شام میں کوئی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔اْن سے سوال کیا گیا کہ اطلاعات کے مطابق، فلسطین اتھارٹی کے صدر، محمود عباس نے روسی صدر کو بتایا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ثالثی کے لیے امریکہ کے کسی طرح کے کردار پر رضامند نہیں ہوں گے ناہی مزید تعاون کریں گے۔ ٹلرسن نے کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے کچھ اقدامات اور فیصلوں پر عباس کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔بقول اْن کے صدر عباس کو میرا پیغام یہ ہوگا کہ امریکہ اب بھی مشرق وسطیٰ امن عمل کی کامیابی کے عزم پر قائم ہے۔ اور، اس معاملے میں پیش رفت کے حصول کے لیے ہم ہر طرح کی مدد فراہم کرنے پر تیار ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے اس توقع کا اظہار کیا کہ صدر عباس مذاکرات کی میز کی جانب آئیں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…