جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’گود لیں یا ۔۔ہمارے پاس ہر عمر کے بچے دستیاب ہیں‘‘ بچوں کی آن لائن خریدوفروخت کا انکشاف، ایک بچہ کتنے میں بیچا جاتا ہےویب سائٹ پر اشتہار سامنے آگیا

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

قاہرہ(آئی این پی)مصر میں بچوں کی آن لائن خرید و فروخت کا انکشاف ہوا ہے اس سلسلے میں ایک ویب سائٹ پر اشتہار دیا گیا ہے کہ ہمارے پاس ہرعمر کے بچے برائے فروخت موجود ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق مصر میں آن لائن بچوں کی خریدوفروخت کی جارہی ہے اور ایک ویب سائٹ پر اشتہار میں واضح الفاظ میں تحریر ہے کہ ہمارے پاس ہر عمر کے بچے برائے فروخت موجود ہیں،

بچوں کو گود لینے یا خرید و فروخت کے خواہش مند حضرات ہم سے رابطہ کریں۔ویب سائٹ کی نشاندہی مصری باشندے رامی الجبالی نے کی اور بتایا کہ ویب سائٹ پر یہ صفحہ گم شدہ بچوں کی تلاش میں مدد کے لئے بنایا گیا تھا جہاں لاپتہ بچوں کی شناخت کے لئے تصاویر اور دیگر معلومات پوسٹ کی جاتی ہیں اور ویب سائٹ کے فالورز کی تعداد 12 لاکھ سے زائد ہے۔الجبالی کے مطابق ایک ماہ قبل سوشل میڈیا پر انکشاف ہوا کہ گم شدہ بچوں کی تلاش میں مدد کے لئے بنائی گئی ویب سائٹ بچوں کی خریدوفروخت کے گھنانے کاربار میں ملوث ہے اور الشرق شہر میں واقع ایک فلیٹ میں گم شدہ بچوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ فلیٹ میں لوگ فیملی کی شکل میں آتے ہیں اور وہاں سے اپنے ساتھ بچے لے جاتے ہیں۔فلیٹ میں عوام کی بڑی تعداد میں آمد و رفت پر پڑوسیوں نے شک کی بنیاد پر پولیس کو اطلاع دی اور جب پولیس نے چھاپہ مار کر موقع پر موجود افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ محلے داروں کا شک درست تھا اور فلیٹ میں ہر عمر کے بچوں کی خریدوفروخت کی جارہی ہے، بچوں کی عمر کے تناسب سے ان کی قیمت لگائی جاتی ہے، آن لائن فروخت کے لیے پیش کردہ بچوں میں سے بعض 2 لاکھ مصری پانڈز سے 30 ہزار مصری پانڈز تک دستیاب ہیں

اور اس گھنانے کاروبار کو چلانے والا عرب نژاد ہالینڈ کا شہری ہے، جو تاحال ہالینڈ میں ہی مقیم ہے۔مصری حکام کے مطابق بچوں کے کاروبار میں ملوث متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ دیگر ملزمان بشمول ہالینڈ میں موجود مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…