پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

لیبیا سے یورپ کا رخ کرنیوا لے غیرقانونی مہاجرین میں پاکستانی سرفہرست

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

برسلز(این این آئی)بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایاہے کہ رواں برس کے آغاز میں لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستے عبور کر کے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں پاکستانیوں کی تعداد نمایاں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہاکہ رواں برس کے آغاز کے ساتھ ہی لیبیا کے ساحلوں سے یورپ جانے کے رجحان میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران چھ ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں نے بحیرہ روم کے سمندری راستے عبور کر کے اٹلی کا رخ کیا ہے۔

انسانوں کے اسمگلر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے تارکین وطن کو پہلے ترکی اور متحدہ عرب امارات لاتے ہیں جس کے بعد انہیں لیبیا پہنچا دیا جاتا ہے۔ لیبیا کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والوں میں پاکستانیوں کی نمایاں تعداد کی وجوہات بیان کرتے رپورٹ میں کہاگیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے لیبیا پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار کے حصول کی ایک اہم منزل رہا ہے اور اس ملک میں کئی پاکستانی شہری طویل عرصے سے آباد ہیں۔ انسانوں کے اسمگلر مزید تارکین وطن کو بھی ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے لیبیا منتقل کر رہے ہیں تاہم لیبیا میں سکیورٹی کی مایوس کن صورت حال کے باعث وہاں پہلے سے مقیم پاکستانی شہری بھی بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔

یہ طویل سمندری راستے انتہائی خطرناک بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق رواں برس کے ابتدائی چند روز کے دوران ہی ڈھائی سو سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے جب کہ اب تک بحیرہ روم میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پندرہ ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…