جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

بس بہت ہو گیا، پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات اقوام متحدہ نے امریکہ اور افغانستان کو شٹ اپ کال دیدی

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی ) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہو تی ، دہشتگردی سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے،افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے

پڑوسی ممالک، خصوصا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ملاقات کی جس میں امریکی صدر نے افغانستان میں دہشگرد حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہنے کے بعد امریکہ افغان طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوا کرتی۔ بقول ان کے، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اور یہ کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، جس سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔یاماموتو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سلامتی کونسل انسدادِ دہشت گردی کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے پڑوسی ممالک، خصوصا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں، عالمی ادارے کے ایلچی نے کہا کہ فروری میں کابل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوگی اور خطے کے ممالک بشمول پاکستان اس میں شریک ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ طالبان کے

ساتھ بات چیت کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں امن عمل افغان قیادت میں ہونا چاہیئے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں سب کی کوششیں شامل ہونی چاہئیں۔ باغیوں سے رابطے کی کوشش کی جائے اور حقیقی مذاکرات کے لیے ان کی بات سنی جائے۔بقول ایلچی، طالبان جب بھی مذاکرات کی میز پر آئیں یہ عمل کھلے عام نہیں ہونا چاہیئے۔

افغانستان میں پائیدار امن کے لیے کوششوں میں خطے کے مفادات بھی شامل ہونے چاہئیں، جس کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مخلصانہ بات چیت ہونی چاہیئے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…