پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

بس بہت ہو گیا، پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات اقوام متحدہ نے امریکہ اور افغانستان کو شٹ اپ کال دیدی

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی ) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہو تی ، دہشتگردی سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے،افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے

پڑوسی ممالک، خصوصا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ملاقات کی جس میں امریکی صدر نے افغانستان میں دہشگرد حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہنے کے بعد امریکہ افغان طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوا کرتی۔ بقول ان کے، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اور یہ کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، جس سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔یاماموتو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سلامتی کونسل انسدادِ دہشت گردی کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے پڑوسی ممالک، خصوصا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں، عالمی ادارے کے ایلچی نے کہا کہ فروری میں کابل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوگی اور خطے کے ممالک بشمول پاکستان اس میں شریک ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ طالبان کے

ساتھ بات چیت کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں امن عمل افغان قیادت میں ہونا چاہیئے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں سب کی کوششیں شامل ہونی چاہئیں۔ باغیوں سے رابطے کی کوشش کی جائے اور حقیقی مذاکرات کے لیے ان کی بات سنی جائے۔بقول ایلچی، طالبان جب بھی مذاکرات کی میز پر آئیں یہ عمل کھلے عام نہیں ہونا چاہیئے۔

افغانستان میں پائیدار امن کے لیے کوششوں میں خطے کے مفادات بھی شامل ہونے چاہئیں، جس کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مخلصانہ بات چیت ہونی چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…