پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

چین اور بھارت میں بڑی جنگ کا خطرہ،بھارتی فوجیوں کو ڈوکلام سے نکالنے کے بعد چینی فوج وہاں کیا کررہی ہے؟بھارتی کرنل نے ہنگامہ برپا کردیا

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

نئی دہلی (آئی این پی) موسم گرما کے تنازع والے ہمالیائی علاقے میں تازہ چینی فوجی اجتماع نے دہلی میں یہ خدشات پیدا کر دیئے ہیں کہ اگست میں طے پانے والا امن معاہدہ قائم نہیں رہے گا جس کے نتیجے میں ایک اور کہیں زیادہ بڑی محاذ آرائی کی راہ ہموار ہو جائے گی ، ونیا یاک بھٹ گذشتہ مہینوں سے ان تھک کام کررہا ہے،ریٹائرڈ بھارتی کرنل کے ہمالیہ کے سطح مرتفع ڈوکلام کی مصنوعی سیارے کے ذریعے لی جانیوالی تصاویر کے منہمک تجزیوں نے گذشتہ موسم گرما میں جنگ کے دہانے سے

اپنی واپسی کے بعد سے چین اور بھارت کی طرف سے بڑی محنت سے بنے گئے امن کے پردے کو تار تار کر دیا ہے،ان تجزیوں سے اس معاہدے کے بارے میں جو سقم ۔بھوٹان ۔تبت کے ’’سنگم‘‘ میں امن برقرار رکھنے کیلئے بیجنگ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بارے میں بھارت کیلئے کئی پریشان کن سوالات پیدا کر دیئے ہیں، آن لائن جریدہ دا پرنٹ پر گرافک رپورٹس میں بھٹ بھارتی فوج کی انتہائی ہراول خندق سے دس میٹر سے کم فاصلے پر کنکریٹ سے بنے ہوئے ابزرویشن ٹاور ،نئی خندقوں ، ہیلی پیڈوں اور کنکریٹ چوکیوں سمیت شمالی ڈوکلام میں چینیوں کی طرف سے زبردست فوجی اجتماع اور گذشتہ سال محاذ آرائی والے مقام کے قریب عوامی سپاہ آزادی (پی ایل او ) کے جوانوں کی زبردست تعیناتی کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا گیا ہے ، ان کی رپورٹ کے مطابق شمالی ڈوکلام سطح مرتفع کی تقریباً ہر پہاڑی چوٹی پر لڑاکا چوٹیاں قائم کی گئی ہیں جن سے ان اکا دکا میڈیا رپورٹوں کی تصدیق ہوتی ہے کہ چینی فوجی علاقے کو چھوڑنے کی بجائے کافی قریب آرہے ہیں۔33سال تک بھارتی فوج میں خدمات انجام دینے والے اس ریٹائرڈ کرنل نے جریدہ دس ویک ان ایشیا ء کو بتایا کہ مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصاویر کے مطابق یہ تمام ڈھانچے صرف 16 جون کے بعد کھڑے کئے گئے ہیں، بھارتی حکومت اس قسم کا کوئی اقدام نہیں کررہی ہے اور اس کی بجائے

اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ سب ٹھیک ہے، اپوزیشن کانگریس پارٹی کے گذشتہ ہفتے مصنوعی سیاروں کی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے ملک کو گمراہ کرنے کاالزام عائد کرنے کے بعد حکومت نے وضاحت کی کہ گذشتہ سال کے تنازع کے مقام پر جوں کی توں صورتحال برقرار ہے۔ انہوں نے بھٹ جیسی اخباری اطلاعات کو غلط اور شرانگیز قرار دے کر مسترد کر دیا تاہم کہا کہ وہ ڈوکلام پر غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے ’’مسلمہ میکنزم‘‘ بروئے کار لارہی ہے، اسی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بائی پن راو ت نے کہا کہ چینی فوجی اب علاقے میں موجود ہیں تا ہم یہ اتنی تعداد میں نہیں ہیں جتنے کہ ابتدا میں تھے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایل اے نے بعض ڈھانچہ جاتی تعمیرات کی ہیں جو نوعیت کے لحاظ سے زیادہ تر عارضی ہیں تاہم اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی ڈوکلام سے قبل کی سطح تک پہنچ گئی ہے راوت نے مزید کہا کہ بھارت کیلئے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی توجہ پاکستان کے ساتھ اپنی مغربی سرحد سے ہٹا کر چین کے ساتھ اپنی شمالی سرحد پر مبذول کرے

جسے وانگ ڈی ہوا جیسے چینی ماہرین ’’بھارت کی طرف سے سرحدی جارحیت ‘‘ کی علامت سمجھتے ہیں، ’’وضاحت کا وقت ‘‘ کے عنوان سے اپنے ایک ادارہ میں بھارتی جریدہ دا ہندو نے لکھا ہے کہ حکومت کی طرف سے متضاد پیغامات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اگست میں اعلان کیا جانیوالا معاہدہ ناکام ثابت ہوا ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈوکلام کے بارے میں ابہام کو ترک کر دے اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے اس بارے میں تفصیلات فراہم کرے۔ اپوزیشن رکن اسمبلی شاشی تھارور نے جریدہ دس ویک ان ایشیاء کو بتایا کہ چینی فوجی اجتماع سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ماضی میں کسی اجتماع سے بالکل مختلف ہے جو کہ باعث تشویش ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…