جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قبرستان کے قریب نئے سال کی پارٹی کرنے سے روکنے پر ہندوؤں نے مسلمان کو مار مار کر قتل کردیا

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

رانچی(سی پی پی) بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں سال نو کے موقع پر مبینہ طور پر اونچی آواز میں موسیقی بجانے سے منع کرنے پر ایک مسلمان کو مار مار کر قتل کر دیا گیا ۔یہ واقعہ ریاست کے دارالحکومت رانچی کے قریب مندار قصبے میں پیش آیا۔ لوگوں نے اس قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے احتجاج کرتے ہوئے ایک قومی شاہراہ بھی بلاک کردی تاہم پولیس کی جانب سے راستہ کھلوا دیا گیا۔

ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان قیام امن کے لیے اضافی نفری بھی علاقے میں تعینات کی گئی ہے۔قتل کیے جانے والے 19 وسیم انصاری پونے میں دیہاڑی دار مزدوری کرتے تھے اور دو روز قبل اپنے گاؤں واپس آئے تھے۔ایک سینئر پولیس اہلکار نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک گروہ نئے سال کا جشن منانے کے لیے اونچی آواز میں موسیقی بجا رہا تھا۔پولیس اہلکار کے مطابق

وسیم انصاری اور ان کے دو دوست اس گروہ کے پاس گئے اور انھیں بلند آواز میں موسیقی بند کرنے کا کہا۔ اس پر تنازع شروع ہوگیا اور وسیم پر اس گروہ نے حملہ کر دیا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان پر کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والے کسی تیز دھار آلے سے نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دونوں فریقین سے امن قائم کرنے

کی درخواست کی ہے۔ مشتبہ افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس نے ہندوں اور مسلمانوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہیوسیم انصاری کے گاوں کے ایک رہائشی حسیب الانصاری نے بتایاکہ یہ لوگ مسلمانوں کے قبرستان کے قریب پارٹی کر رہے تھے، جب وسیم نے انھیں روکا، انھوں نے اسے مار دیا۔ان کے دوست خوش قسمتی سے وقت پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اگر نہ بھاگتے ہو وہ انھیں بھی مار دیتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…