جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

امریکہ اور پاکستان میں ،امریکی کینیڈین خاندان کی بازیابی کے دوران پکڑے جانیوالے شخص پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا،پاکستان کا صاف انکار،نیویارک ٹائمز کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی حکومت نے پاکستان کی 255 ملین ڈالر فوجی امداد کی رقم روکنے پر غور شروع کردیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ انتہائی سختی کے ساتھ پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد روکنے پر غور کررہی ہے۔ اخبار کے مطابق رواں سال اکتوبر میں پاکستانی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے عسکری پسندوں کی قید میں موجود کینیڈین شہری جوشوا بوائل اور اس

کی امریکی بیوی کیٹلان کولمین کو بچوں سمیت بازیاب کرایا تھا۔ اس امریکی کینیڈین خاندان کی بازیابی کے دوران ایک اغواکار بھی پکڑا گیا تھا جس کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔امریکہ کا خیال ہے کہ گرفتار اغوا کار کے پاس طالبان کی قید میں موجود ایک اور امریکی مغوی کیون کنگ کے بارے میں بھی معلومات ہوسکتی ہیں۔ امریکی حکام نے پاکستان میں گرفتار اس اغوا کار تک رسائی مانگی لیکن پاکستانی حکام نے منع کردیا، جس پر مایوس ہوکر ٹرمپ انتظامیہ نے 255 ملین ڈالر کی قسط روکنے پر غور شروع کردیا ہے جس کی ادائیگی ادائیگی پہلے ہی التوا کا شکار ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام گرفتار اغواکار سے کیون کنگ کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست سے ہی ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکی ہوئی ہے ٗ اس امداد کو غیرملکی فوجی معاونت کہا جاتا ہے جس کے نہ ملنے سے پاکستان کیلئے عسکری سامان کی خریداری مشکل ہوجائیگی اس حوالے سے امداد جاری کرنے سے متعلق امریکی اعلیٰ حکام کا رواں ماہ اجلاس ہوا تاہم کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ٗآئندہ چند ہفتوں میں امداد جاری کرنے یا منسوخ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے ہاتھوں ایک اغوا کار کی گرفتاری کا کیسے علم ہوا تاہم ذرائع نے بتایا کہ ایک امریکی ڈرون یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشن کی

نگرانی کررہا تھا۔ امریکی یونی ورسٹی کے پروفیسر کیون کنگ اور آسٹریلوی شہری ٹموتھی کو 2016 میں اغوا کیا گیا تھا۔ دونوں کے زندہ لیکن بیمار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افغانستان میں ایک اور امریکی پال اووربائی بھی 2014 سے لاپتا ہے جو حقانی نیٹ ورک کے لیڈر کا انٹرویو کرنے افغانستان گیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اگست سے کشیدہ ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے سے متعلق نئی پالیسی میں پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…