منگل‬‮ ، 18 مارچ‬‮ 2025 

دنیا میں اب تک کرپشن کا سب سے بڑا سکینڈل،سعودی عرب میں کتنے کھرب ڈ الر کی کرپشن ہوئی؟کتنے افرادگرفتارہوئے اور اب کیا ہورہاہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شیخ سعود المجیب نے کہا کہ ہفتے کی رات کو شروع ہونے والی انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت 201 افراد سے پوچھ گچھ کے لیے انھیں حراست میں لیا گیا ہے۔انھوں نے ان افراد میں سے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ان میں شہزادے، وزرا اور بااثر کاروباری شخصیات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں درجنوں شہزادوں، سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ داروں کی گرفتاری کو سرکاری طور پر بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسلک کیا جا رہا ہے لیکن سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کا خاندانی و کاروباری پس منظر ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنے سیاسی نظریات اور خاندانی وابستگیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے انسدادِ بدعنوانی مہم کے حوالے سے کہا کہ اس غلط کاری کے شواہد بہت مضبوط ہیں۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ اس پکڑ دھکڑ سے سعودی عرب میں عام مالیاتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی اور صرف ذاتی اکاؤنٹ ہی منجمد کیے گئے ہیں۔شیخ سعود المجیب نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی جانے والی انسدادِ بدعنوانی کمیٹی، جس کے سربراہ 32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، ‘بہت تیزی سے حرکت کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اب تک 208 افراد کو تفتیش کے لیے بلایا گیا، اور ان میں سے سات کو بغیر موردِ الزام ٹھہرائے چھوڑ دیا گیا ہے۔بدعنوان سرگرمیوں کا ممکنہ درجہ بہت بلند ہے۔ پچھلے تین سال میں ہونے والی تحقیقات سے ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ کئی عشروں کے دوران وسیع بدعنوانی اور خردبرد سے ایک کھرب ڈالر مالیت کی رقم کا غلط استعمال ہوا ہے۔

شیخ مجیب نے کہا کہ کمیٹی کے پاس اگلی تحقیقات کے لیے واضح مینڈیٹ موجود ہے اور اس نے منگل کے روز بعض بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے ہیں۔انھوں نے کہاکہ ان لوگوں کی شناخت اور ان کے خلاف الزامات کے بارے میں دنیا بھر میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ سعودی قانون کے تحت ان افراد کو مکمل قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے۔اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد میں شہزادہ الولید بن طلال، شہزادہ مطعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی شہزادہ ترکی بن عبداللہ شامل ہیں جو ریاض صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)


قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…

وزیراعظم

میں نے زندگی میں اس سے مہنگا کپڑا نہیں دیکھا تھا‘…

نارمل ملک

حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…