پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’یہ دہشتگردی کی ماں ہیں‘‘ ملیحہ لودھی نے سشما سوراج کو منہ توڑ جواب دیدیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستان پر دہشت گرد برآمد کرنے کے بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے بھارت کو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں اور سرپرست اعلیٰ ریاست قرار دے دیا۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت، پاکستان

کے خلاف بہتان تراشی پر اتر آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ تمام مسائل کاحل مذاکرات سے چاہتا ہے کیونکہ مزاکرات کے لیے پاکستان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کامیاب مذاکرات کے لیے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت بند کرنی ہوگی۔کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیر پر بھارتی قبضہ غیر قانونی ہے اور وادی میں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر، بھارت کا حصہ نہیں ہے اور اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری بھی اسے ایک ’متنازعہ علاقہ‘ تسلیم کرتی ہے۔ملیحہ لودھی نے باور کرایا کہ ایک ہی جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ میں تبدیل نہیں ہوگا۔بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے کشمیر معاملے پر اقوام متحدہ کی قرارداد کی میعاد ختم ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ملیحہ لودی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد وقت سے مشروط نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر معاملے پر بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل سے انکار دھوکا اور کھلی جارحیت ہے۔پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ کے ملوث ہونے کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور حال ہی میں بلوچستان میں پکڑے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کروانے اور اس کی معاونت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…