ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

بھارت نے بھی قطر کیخلاف نیا محاذ کھول دیا،سنگین الزامات عائد

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کو ایسی معلومات ملی ہیں جن سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ قطر سے مالابار کے علاقے میں خیراتی کاموں کے نام پر آنے والی امدادی رقوم کا بڑا حصہ ایک ایسی تنظیم کے ہاتھ لگ رہا ہے جس کے دہشت گرد عناصر سے تعلقات رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس تنظیم سے وابستہ ایجنسیوں کو 96 کروڑ روپے کی خطیر رقم قطر سے موصول ہوئی تھی اور پھر یہ رقم ملک کے مختلف علاقوں میں منتقل کردی گئی تھی۔

قبل ازیں بھارتی حکام کو یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ جنوبی شہروں حیدر آباد اور بنگلور میں دہشت گردی کے حملے کرنے والوں کو ریاست کیرالہ سے مالی امداد ملی تھی۔این آئی اے کے مطابق بیرونی ممالک سے امدادی رقوم وصول کرنے والی بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں( این جی اوز) کا صرف کاغذوں ہی میں وجود ہے اور عملی طور پر وہ کہیں نہیں پائی جاتی ہیں۔اس تنظیم کے کارپردازوں کے بارے میں حکا م ان شبہات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ان کا سخت گیر گروپ داعش اور متنازع ریاست کشمیر سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے لیے بندے بھرتی کرنے میں بھی کردار رہا ہے۔ان مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر وایاناڈ ، کوزیکوڈ اور ملاپ پرام کے اضلاع میں جائیدادیں اور عمارتیں خرید کی تھیں۔بھارتی حکام نے اس شْبے کا بھی اظہار کیا ہے کہ پہلے غیرملکی فنڈز سے جائیدادیں اور املاک خرید کی جاتی ہیں ۔ پھر انھیں فروخت کردیا جاتا ہے اور یوں ان رقوم کو پاک صاف اور قانونی بنا لیا جاتا ہے۔یادرہے کہ یہ این جی او گذشتہ پانچ سال سے مالابار اور کیرالہ میں سماجی خدمات اور دوسری خیراتی سرگرمیوں میں فعال ہے اور اس کے ذمے داران اس کو قطر سے امدادی رقوم وصولنے کے لیے ایک چھتری کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔این آئی اے نے اس تنظیم کے خلاف تحقیقات کے لیے پولیس اور دوسرے حکام سے مدد حاصل کی ہے اور اس نے اس سے وابستہ ذیلی تنظیموں کی رکنیت رکھنے والے سرکاری ملازمین کے بارے میں بھی معلومات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…