جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

بھارت میں انتہائی شرمناک واقعہ،باپ بیٹی کے ساتھ کیا کرتارہا؟افسوسناک انکشاف،عدالت نے تاریخی فیصلہ سنادیا

datetime 17  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی) بھارت میں ریپ کا شکار ہونے والی ایک 10 سالہ بچی کو 20 ہفتے کی مقررہ مدت کے باوجود اسقاط حمل کی اجازت مل گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ بچی نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس کے سوتیلے والد نے متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا، جنھیں حراست میں لیا جا چکا ہے۔یہ معاملہ اس وقت منظرِعام پر آیا جب بچی نے بھارت میں اسقاط حمل کی قانونی اجازت کے 20 ہفتے کی حد کو عبور کیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں اس قانون کے مطابق 20 ہفتہ کے حمل کے بعد تب ہی اسقاط ممکن ہو سکتا ہے جب ماں یا بچے کی جان کو خطرہ ہو۔مذکورہ کیس کی تحقیقاتی آفیسر گریما دیوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے میڈیکل بورڈ سے اس معاملے کو حل کرنے کا کہا جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کا فیصلہ کیا۔تاہم اس میڈیکل بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس عمل کی منصوبہ بندی کب سے کر رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل کسی بھی وقت کر دیا جائے گا۔حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ کو خواتین کے مسائل پر متعدد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ریپ کی شکایات کے ساتھ ساتھ خواتین کی غیر قانونی انسانی اسمگلنگ بھی شامل ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان کا کہنا ہے کہ 20 ہفتے کے اسقاط کی پابندی میں توسیع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ریپ کا نشانہ بننے والی متاثرہ خواتین اکثر حاملہ ہونے کی تصدیق کرنے میں دیر کر دیتی ہیں۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق 10 سالہ متاثرہ بچی کی والدہ چاہتی ہیں کہ ملزم کو آزاد کردیا جائے کیونکہ انہوں نے اپنے جرم کی معافی مانگ لی ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق متاثرہ بچی کی والدہ نے شمالی ہریانہ کے ضلع روہتک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘میری بیٹی کی تو زندگی تباہ ہو ہی گئی ہے لیکن میرے دیگر بچوں کا کیا ہوگا،

مجھے ان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔یادرہے کہ روہتک میں گذشتہ ہفتے بھی ریپ کا ایک واقعہ پیش آیا جہاں 8 افراد نے 23 سالہ ملازمت پیشہ لڑکی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد سر پر اینٹیں مار کر بے دردی سے قتل کردیا تھا۔اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے سال 2014 میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں ریپ کا شکار ہونے والے ہر تین متاثرین میں ایک نابالغ شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…