جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

بھارت میں انتہائی شرمناک واقعہ،باپ بیٹی کے ساتھ کیا کرتارہا؟افسوسناک انکشاف،عدالت نے تاریخی فیصلہ سنادیا

datetime 17  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی) بھارت میں ریپ کا شکار ہونے والی ایک 10 سالہ بچی کو 20 ہفتے کی مقررہ مدت کے باوجود اسقاط حمل کی اجازت مل گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ بچی نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس کے سوتیلے والد نے متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا، جنھیں حراست میں لیا جا چکا ہے۔یہ معاملہ اس وقت منظرِعام پر آیا جب بچی نے بھارت میں اسقاط حمل کی قانونی اجازت کے 20 ہفتے کی حد کو عبور کیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں اس قانون کے مطابق 20 ہفتہ کے حمل کے بعد تب ہی اسقاط ممکن ہو سکتا ہے جب ماں یا بچے کی جان کو خطرہ ہو۔مذکورہ کیس کی تحقیقاتی آفیسر گریما دیوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے میڈیکل بورڈ سے اس معاملے کو حل کرنے کا کہا جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کا فیصلہ کیا۔تاہم اس میڈیکل بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس عمل کی منصوبہ بندی کب سے کر رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل کسی بھی وقت کر دیا جائے گا۔حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ کو خواتین کے مسائل پر متعدد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ریپ کی شکایات کے ساتھ ساتھ خواتین کی غیر قانونی انسانی اسمگلنگ بھی شامل ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان کا کہنا ہے کہ 20 ہفتے کے اسقاط کی پابندی میں توسیع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ریپ کا نشانہ بننے والی متاثرہ خواتین اکثر حاملہ ہونے کی تصدیق کرنے میں دیر کر دیتی ہیں۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق 10 سالہ متاثرہ بچی کی والدہ چاہتی ہیں کہ ملزم کو آزاد کردیا جائے کیونکہ انہوں نے اپنے جرم کی معافی مانگ لی ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق متاثرہ بچی کی والدہ نے شمالی ہریانہ کے ضلع روہتک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘میری بیٹی کی تو زندگی تباہ ہو ہی گئی ہے لیکن میرے دیگر بچوں کا کیا ہوگا،

مجھے ان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔یادرہے کہ روہتک میں گذشتہ ہفتے بھی ریپ کا ایک واقعہ پیش آیا جہاں 8 افراد نے 23 سالہ ملازمت پیشہ لڑکی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد سر پر اینٹیں مار کر بے دردی سے قتل کردیا تھا۔اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے سال 2014 میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں ریپ کا شکار ہونے والے ہر تین متاثرین میں ایک نابالغ شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…