جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شام کی جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کے ساتھ کیا ، کیاجارہاہے؟لرزہ خیز انکشافات

datetime 16  مئی‬‮  2017 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے بشارالاسد حکومت پرالزام عائد کیاہے کہ بشارالاسد حکومت نے فوجی جیل میں مارے جانے والے ہزاروں قیدیوں کی باقیات کو ختم کرنے کے لئے لاشوں کو جلانے کے لیے جگہ بنا لی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے سیٹلایٹ سے لی گئی چند تصاویر جاری کی ہیں جو ان کے مطابق اس عمارت کی ہیں جو شواہد چھپانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے

کہ دمشق کے باہر فوجی جیل میں ہزاروں قیدیوں کو اذیت اور پھانسی دی جاتی تھی۔تاہم شام نے تاحال اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے لیکن ماضی میں وہ اس قسم کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ فروری میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ 2011 سے 2015 کے درمیان جیل میں ہر ہفتے بڑے پیمانے پر پھانسیاں دی جاتی رہی ہیں۔تاہم شامی حکومت نے اس وقت ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد‘ اور ’بے معنی‘ قرار دیا تھا۔دو روز قبل شامی شہر سیدانیاں میں زیادتیوں کے حوالے سے مزید الزامات سامنے آئے ہیں۔نیئر ایسٹرن افیئرز کے اسسٹنٹ سیکرٹری سٹوارٹ جونز کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ شامی حکومت نے سیدانیاں جیل میں لاشوں کو جلانے کا بندوبست کیا ہوا ہے جہاں وہ معمولی شواہد کو بھی ختم کرنے کے لیے لاشوں کو جلاتے ہیں۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کام جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔کہ شامی حکومت نے سیدانیاں جیل میں لاشوں کو جلانے کا بندوبست کیا ہوا ہے جہاں وہ معمولی شواہد کو بھی ختم کرنے کے لیے لاشوں کو جلاتے ہیں۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کام جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔شامی حکومت نے سیدانیاں جیل میں لاشوں کو جلانے کا بندوبست کیا ہوا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…