سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری مسلمانوں کے جذبہ آزاد ی کی وجہ سے گھبراہٹ کاشکارہے اوراب انڈیانے الزام عائدکیاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی ٹی وی چینلزکے علاوہ سعودی چینلزبھی جذبہ آزاد ی کوابھارنے میں کرداراداکررہے ہیں ۔بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی میں خواتین اور نوجوانوں کے فعال کردار کا اعتراف کرنے والے ”را“ کے سابق سربراہ کے بیان کے بعد بھارت مزید پریشانی کاشکارہے
بھارتی اخبار”دی ٹائمز آف انڈیا “کی رپورٹ کے مطابق کی ر پورٹ کے مطابق الزام لگایاگیاہے کہ سعودی علماکی تقاریراورپاکستانی چینلزمقبوضہ کشمیرکے شہریوں کے گھروں میں دیکھے جارہے ہیں جس کی وجہ سے جذبہ آزادی کومزیدتقویت مل رہی ہے ۔ان الزامات کوسچاثابت کرنے کی کوشش میں یہ حوالہ دیاگیاہے کہ معروف اسلامی سکالرڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی اور بھارت مخالف ایجنڈے میں شامل 50سے زائد پاکستانی اور سعودی چینلز کشمیر میں پرائیویٹ کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے ضروری کلیئرنس کے بغیر چلائے جا رہے ہیں اورکشمیری عوام بھارتی چینلزکے بجائے ان پاکستانی ا و رسعودی چینلزکوزیادہ دیکھتے ہیں ۔اس بارے میں سری نگرکے کیبل نیٹ و رک کے ایک ایک کیبل آپریٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ صرف سری نگر میں ہی 50ہزار سے زائد پرائیویٹ کیبل کنیکشنز ہیں جوصرف پاکستانی اور سعودی چینلز دکھاتے ہیں ۔اس نے مزیدبتایاکہ پرائیویٹ آپریٹرز سعودی سنہ، سعودی قرآن ، العربیہ ، پیغام ،ہدایت ، نور ، مدنی ، سحر ، کربلا، حادی ، اے آر وائے ،کیو ٹی وی ، میسج ، فلک ، جیو نیوز، اے آر وائے نیوز ، ڈان نیوز سمیت دیگر سعودی اور پاکستانی چینل نشر کر رہے ہیںحالانکہ سیٹیلائٹ ٹیلی ویژن سروس پرووائیڈرز کے ذریعے رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی جبکہ ان میں سے کسی چینل کو بھی ملک کے کسی دیگر حصے میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے لیکن بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود یہ چینلزمقبوضہ کشمیرکے عوام میں بہت مقبول ہیں جبکہ ان چینلزکی وجہ سے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کومزیدابھاراجارہاہے ۔



















































