اسلام آباد ،وارسا(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے پولینڈکی معروف صحافی کوممنوعہ علاقے میں بغیراجازت ویڈیوریکارڈنگ کرنے پرگزشتہ دنوں گرفتارکرلیاتھااوراب اس کوعملے سمیت ملک بدرکردیاگیاہے ۔تفصیلات کے مطابق نیشنل جیوگرافک میگزین کی سابق ایڈیٹر انچیف اور پولینڈ کی معروف اینکر پرسن مارٹیانا ووجسی چاؤسکا اوراس کے ساتھی عملے کو حراست میں رکھنے کے بعد گزشتہ روز وطن واپس بھیج دیاگیا،
پاکستانی حکام کے مطابق مارٹیانا ووجسی چاؤسکاکوپاکستان میں رپورٹنگ کے دوران خاص ہدایات جاری کی گئیں تھیں لیکن انہوں نےان پرعمل نہیں کیاجس پران کو سٹاف سمیت گرفتارکرلیاگیا۔پاکستان بدرکی جانے والے مارٹیانا ووجسی چاؤسکاکے اپنے ملک کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہےکہ مارٹیانا اور ان کے عملے نے پاکستانی حکام کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیاتھا اور مارٹیانا اور ان کے عملے نے بغیر مناسب ویزا، درکار صحافتی اور انتظامی اجازت نامہ حاصل کئے ان علاقوں میں ریکارڈنگ کی جہاں پر ویڈیو بنانا ممنوع تھا۔جبکہ پاکستان بدرکی جانے والی پولینڈکی ٹی وی اینکرپرسن مارٹیاناکاکہناہے کہ وہ اپنے عملے کے ہمراہ پاک افغان بارڈرکے قریب اپنے ٹی وی کے لئے سیریزکی ایک قسط کی ریکارڈنگ کررہی تھیں کہ ان دوران ان کوگرفتارکرلیاگیا۔۔واضح رہے کہ جب بھی کوئی صحافتی ادارہ پاکستان میں اپنے فرائض سرانجام دیتاہے تواس کوپاکستانی حکام کی طرف سے اہم ہدایات جاری کی جاتی ہیں اورایساکام کرنے والوں کے پاس پاکستان کامتعلقہ شعبے کا ویزا اوراین اوسی لینا ضروری ہے ۔اگرکوئی بھی غیرملکی صحافتی ادارہ اس پرعمل نہ کرے توقوانین کے تحت اس کوملک سے نکال دیاجاتاہے اس سے قبل ایک کوئٹہ میں ایک صحافی ڈیکلن والش کوبھی ایسی سرگرمیوں کی وجہ سے ملک بدرکیاگیاتھا۔



















































