جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر کاحل،ترک صدر نے بھارت میں اہم ترین اعلان کردیا 

datetime 30  اپریل‬‮  2017 |

انقرہ /نئی دہلی (آئی این پی)ترک صدررجب طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہوا تو ترکی کی حیثیت سے ہم معاملے میں شامل ہو سکتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا مذاکراتی حل پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے،پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں اس پر ہمیں خوشی ہے،

فیتو دہشتگرد تنظیم بھارت میں بھی سنجیدہ پیمانے پر منظم ہے لہذا بھارتی حکومت کو اس معاملے میں تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔ترک صدر نے اپنے دورہ بھارت سے قبل ایک بھارتی ٹی وی ’’ورلڈ ایز ون نیوز(ڈبلیو آئی او این )‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں اور اس پر ہمیں خوشی ہے۔صدراردگان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہوا تو ترکی کی حیثیت سے ہم معاملے میں شامل ہو سکتے ہیں ، اس مسئلے کا مذاکراتی حل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو گا۔انھوں نے16 اپریل کے آئینی تبدیلی سے متعلق انتخابات میں شرکت کی بلند شرح کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ریفرینڈم میں 85 فیصد کی شرح سے شرکت کے ساتھ ترکی نے دنیا اور خاص طور پر یورپ کو جمہوریت کا درس دیا ہے۔ جس قدر ترکی میں ریفرینڈم میں شرکت کی سطح بلند رہی ہے اس قدر دنیا میں کہیں نہیں دیکھی گئی۔سیکولرازم کی تعریف کے بارے میں سوال کے جواب میں صدر اردگان نے کہا کہ سول قانون اور اینگلوسیکسن میں سیکولر ازم کا غلط اطلاق کیا گیا ہے کیونکہ وہاں عقائد کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کو رد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں سیکولر ازم تمام عقائد کے حامل افراد کو حکومت کے تحفظ میں لینا اور ہر ایک کا اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کر سکنا ہے۔

صدر اردگان نے کہا کہ اسکارف دینی لحاظ سے ایک مسلمان خاتون اپنے عقیدے کی ضرورت کے تحت اوڑھتی ہے، ترکی میں خاص طور پر کسی بھی عقیدے میں مداخلت نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ مغرب میں حالیہ دنوں میں سنجیدہ سطح پر مسلمان دشمنی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور یہ دشمنی مساجد کو جلانے تک جا پہنچی ہے۔یورپی یونین کے رکنیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر اردگان نے کہا کہ یورپ نے ترکی کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اور اظہار بیان کی آزادی کے موضوعات پر دنیا بھر کی فہرست تیار کرنے والے سب حلقوں نے سیاسی اور جانبدارنہ رویہ اختیار کر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ حلقے قابل اعتبار نہیں ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ فیتو دہشتگرد تنظیم بھارت میں بھی سنجیدہ پیمانے پر منظم ہے لہذا بھارتی حکومت کو اس معاملے میں تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں موجود دہشتگرد تنظیموں میں فیتو سر فہرست ہے اور داعش کے خلاف جو جدوجہد ترکی کر رہا ہے وہ کسی اور ملک نے نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…