جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گلبدین حکمت یار کی واپسی ،افغانستان میں ہلچل،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 29  اپریل‬‮  2017 |

کابل (آئی این پی )افغان حکومت نے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں حکمت یار کی وطن واپسی یہ ثابت کرے گی کہ افغان آپس کے مسائل اور کشیدگی کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان پر زور دیا ہے کہ افغان حکومت کی حمایت کی جائے اور جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔

افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت نے گلبدین حکمت یار کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں حکمت یار کی وطن واپسی یہ ثابت کرے گی کہ افغان آپس کے مسائل اور کشیدگی کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اسلامی کے ساتھ کامیاب امن معاہدے کے بعد حکمت یار کی واپسی سے ثایت ہوتا ہے کہ افغان عوام انٹرا افغان مذاکرات اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کی صلاحیت رکھتے ہیں۔حکمت یار کی وطن واپسی سے ملک میں امن واستحکا پر مثبت اثر پڑے گا اور ملک کی ترقی سمیت دیگر شعبوں کیلئے مدد ملے گی ۔حکومت پرامید ہے کہ حکمت یار ملک میں امن واستحکام کیلئے حکومت کے ساتھ مل کرکام کریں گے ۔دوسری جانب گلبدین حکمت یار نے دو عشروں کے بعد ہفتہ کو ایک عوامی اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ افغان حکومت کی حمایت کی جائے اور جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔ سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے قائد حکمت یار لغمان نے صوبے میں اپنے حامیوں سے کہا کہ طالبان کو بغاوت ختم کرتے ہوئے افغانستان کو پرامن بنانے میں مدد کرنا چاہیے۔ ان کی یہ تقریر کئی ٹیلی وژن چینلز پر براہ راست نشر کی گئی۔

کابل حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں قیام امن کی خاطر کابل کے قصائی کے نام سے مشہور حکمت یار سے امن ڈیل کر لی تھی۔ سن دو ہزار ایک میں جب طالبان کا اقتدار ختم کر دیا گیا تو حکمت یار نے حکومت کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے غیر ملکی فورسز کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…