جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

گلبدین حکمت یار کی واپسی ،افغانستان میں ہلچل،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 29  اپریل‬‮  2017 |

کابل (آئی این پی )افغان حکومت نے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں حکمت یار کی وطن واپسی یہ ثابت کرے گی کہ افغان آپس کے مسائل اور کشیدگی کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان پر زور دیا ہے کہ افغان حکومت کی حمایت کی جائے اور جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔

افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت نے گلبدین حکمت یار کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں حکمت یار کی وطن واپسی یہ ثابت کرے گی کہ افغان آپس کے مسائل اور کشیدگی کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اسلامی کے ساتھ کامیاب امن معاہدے کے بعد حکمت یار کی واپسی سے ثایت ہوتا ہے کہ افغان عوام انٹرا افغان مذاکرات اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کی صلاحیت رکھتے ہیں۔حکمت یار کی وطن واپسی سے ملک میں امن واستحکا پر مثبت اثر پڑے گا اور ملک کی ترقی سمیت دیگر شعبوں کیلئے مدد ملے گی ۔حکومت پرامید ہے کہ حکمت یار ملک میں امن واستحکام کیلئے حکومت کے ساتھ مل کرکام کریں گے ۔دوسری جانب گلبدین حکمت یار نے دو عشروں کے بعد ہفتہ کو ایک عوامی اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ افغان حکومت کی حمایت کی جائے اور جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔ سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے قائد حکمت یار لغمان نے صوبے میں اپنے حامیوں سے کہا کہ طالبان کو بغاوت ختم کرتے ہوئے افغانستان کو پرامن بنانے میں مدد کرنا چاہیے۔ ان کی یہ تقریر کئی ٹیلی وژن چینلز پر براہ راست نشر کی گئی۔

کابل حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں قیام امن کی خاطر کابل کے قصائی کے نام سے مشہور حکمت یار سے امن ڈیل کر لی تھی۔ سن دو ہزار ایک میں جب طالبان کا اقتدار ختم کر دیا گیا تو حکمت یار نے حکومت کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے غیر ملکی فورسز کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…